हमारे बा'द अब महफ़िल में अफ़्साने बयाँ होंगे बहारें हम को ढूँढेंगी न जाने हम कहाँ होंगे इसी अंदाज़ से झूमेगा मौसम गाएगी दुनिया मोहब्बत फिर हसीं होगी नज़ारे फिर जवाँ होंगे न हम होंगे न तुम होगे न दिल होगा मगर फिर भी हज़ारों मंज़िलें होंगी हज़ारों कारवाँ होंगे
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Majrooh Sultanpuri
یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں
Majrooh Sultanpuri
4 likes
جلا کے جنوں صفات ہم دیار شام چلے جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے منزل سحر نہیں دہان زخم بھی نہیں غضب ن گر ہے ی ہاں دن چلے لگ رات چلے ہمارے لب لگ صحیح حقیقت پہنچتی صحیح وہیں اسیر ہے یاروں کہی سے بات چلے ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ ج ہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے ہوا ہم نوا کوئی ب پا سے طرز نوا تو دور تلک نقد وفا ہم بھی ساتھ ساتھ چلے بچا کے لائے ہم اے یار پھروں بھی رہزنوں اگرچہ لٹتے رہے رہزنوں کے ہاتھ چلے پھروں آئی توڑے کہ مانند مراسلات ہمارے نام گلوں کے قطار شیشہ چلے کاروان ہم سفران ہے یا خرام جام اہل حرم ہے یا چنو کائنات چلے بھلا ہی بیٹھے جب بغل تو اے مجروح بغل ہے وہ ہے وہ ہم بھی لیے اک صنم کا ہاتھ چلے
Majrooh Sultanpuri
0 likes
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو
Majrooh Sultanpuri
1 likes
محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ
Majrooh Sultanpuri
1 likes
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہوں ہم تھے پریشاں جاناں سے زیادہ چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں جاناں سے زیادہ چاک ج گر محتاج رفوع ہے آج تو دامن صرف لہو ہے اک موسم تھا ہم کو رہا ہے شوق بہاراں جاناں سے زیادہ عہد وفا یاروں سے نبھائیں ناز حریفاں ہن سے کے اٹھائیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ارمان جاناں سے سوا تھا اب ہیں پشیمان جاناں سے زیادہ ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اور جاناں نے بھی دیکھا دور سے لیکن یہ لگ سمجھنا ہم کو ہوا ہے جان کا نقصان جاناں سے زیادہ جاؤ جاناں اپنے بام کی خاطر ساری لویں شمعوں کی سرو قد لو زخم کے مہر و ماہ سلامت جشن چراغاں جاناں سے زیادہ دیکھ کے الجھن زلف دو تا کی کیسے الجھ پڑتے ہیں ہوا سے ہم سے سیکھو ہم کو ہے یاروں فکر نگاراں جاناں سے زیادہ زنجیر و دیوار ہی دیکھی جاناں نے تو مجروح م گر ہم کوچہ کوچہ دیکھ رہے ہیں عالم زنداں جاناں سے زیادہ
Majrooh Sultanpuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.







