hans ke bola karo bulaya karo aap ka ghar hai aaya jaaya karo muskurahat hai husn ka zevar ruup badhta hai muskuraya karo had se badh kar hasin lagte ho jhuti qasmen zarur khaya karo hukm karna bhi ik sakhavat hai ham ko khidmat koi bataya karo baat karna bhi badshahat hai baat karna na bhuul jaaya karo taaki duniya ki dilkashi na ghate nit-nae pairahan men aaya karo ham hasad se 'adam' nahin kahte us gali men bahut na jaaya karo hans ke bola karo bulaya karo aap ka ghar hai aaya jaya karo muskurahat hai husn ka zewar rup badhta hai muskuraya karo had se badh kar hasin lagte ho jhuti qasmen zarur khaya karo hukm karna bhi ek sakhawat hai hum ko khidmat koi bataya karo baat karna bhi baadshahat hai baat karna na bhul jaya karo taki duniya ki dilkashi na ghate nit-nae pairahan mein aaya karo hum hasad se 'adam' nahin kahte us gali mein bahut na jaya karo
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Abdul Hamid Adam
जब तिरे नैन मुस्कुराते हैं ज़ीस्त के रंज भूल जाते हैं क्यूँँ शिकन डालते हो माथे पर भूल कर आ गए हैं जाते हैं कश्तियाँ यूँँ भी डूब जाती हैं नाख़ुदा किस लिए डराते हैं इक हसीं आँख के इशारे पर क़ाफ़िले राह भूल जाते हैं
Abdul Hamid Adam
5 likes
ہن سے کے بولا کروں بلایا کروں آپ کا گھر ہے آیا جایا کروں مسکراہٹ ہے حسن کا زیور مسکرانا لگ بھول جایا کروں حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوں جھوٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضرور کھایا کروں تاکہ دنیا کی دلکشی لگ گھٹے نت نئے پیرہن ہے وہ ہے وہ آیا کروں کتنے سادہ مزاج ہوں جاناں عدم ا سے گلی ہے وہ ہے وہ بے حد لگ جایا کروں
Abdul Hamid Adam
16 likes
ہن سے ہن سے کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا تو حقیقت خود پلا رہے تھے ہے وہ ہے وہ لہرا کے پی گیا تو توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا تو ساغر بدست بیٹھی رہی مری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا تو حقیقت دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا تو سدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخ دنیا جبر و دل پامال کو دھڑکا کے پی گیا تو سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا تو پیتا ک ہاں تھا صبح ازل ہے وہ ہے وہ بھلا عدم ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا تو
Abdul Hamid Adam
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abdul Hamid Adam.
Similar Moods
More moods that pair well with Abdul Hamid Adam's ghazal.







