ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار ہے وہ ہے وہ ہے لگی ہے آگ ک ہاں کیوں پتا کیا جائے جدا ہے ہیر سے رانجھے کئی زمانوں سے نئے سرے سے کہانی کو پھروں لکھا جائے کہا گیا تو ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے یہ کتنا سچ ہے کبھی غضب کیا جائے کتابیں یوں تو بے حد سی ہیں مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی اکیلے ہے وہ ہے وہ خود کو بھی پڑھ لیا جائے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ا سے نے دو چار کر دیا مجھ کو ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو کیوں نہیں دسترسی ہے وہ ہے وہ تو مری کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو کبھی پتھر کبھی خدا ا سے نے چاہا جو یار کر دیا مجھ کو ا سے سے کوئی سوال مت کرنا ا سے نے انکار کر دیا مجھ کو ایک انسان ہی تو مانگا تھا اس کا کا کو بھی مار کر دیا مجھ کو
Himanshi babra KATIB
51 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں
Nida Fazli
0 likes
ہر ایک گھر ہے وہ ہے وہ دیا بھی جلے اناج بھی ہوں ا گر لگ ہوں کہی ایسا تو احتجاج بھی ہوں رہےگی وعدوں ہے وہ ہے وہ کب تک ہم نوا خوش حالی ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہوں لگ کرتے شور شرابا تو اور کیا کرتے تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ اور کام کاج بھی ہوں حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں حکومتیں جو بدلتا ہے حقیقت سماج بھی ہوں بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرض پرانا ہے ا سے کا نیا علاج بھی ہوں اکیلے غم سے نئی شاعری نہیں ہوتی زبان میر ہے وہ ہے وہ تاکتے کا امتزاج بھی ہوں
Nida Fazli
0 likes
ہر اک رستہ اندھیروں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے محبت اک ضروری حادثہ ہے گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیں زمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے نکل آئی کدھر منزل کی دھن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں تو راستہ ہی راستہ ہے دعا کے ہاتھ پتھر ہوں گئے ہیں خدا ہر ذہن ہے وہ ہے وہ ٹوٹا پڑا ہے تمہارا غضب شاید الگ ہوں مجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے
Nida Fazli
2 likes
جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے
Nida Fazli
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







