ہاتھ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لگ دے بات ہی کرتا جائے ہے بے حد لمبا سفر یوں تو لگ ڈرتا جائے جی ہے وہ ہے وہ ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہر حال مجھے ج سے کو مرنا ہے حقیقت چپ چاپ ہی مرتا جائے خود کو مضبوط بنا رکھے پہاڑوں کی طرح ریت کا آدمی اندر سے بکھرتا جائے سرخ پھولوں کا نہیں زرد اداسی کا صحیح رنگ کچھ تو مری تصویر ہے وہ ہے وہ بھرتا جائے مجھ سے خوبصورت ہے ا گر ا سے کو تو اظہار کرے کب ہے وہ ہے وہ کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے گھر کی دیوار کو اتنا بھی تو اونچا لگ بنا تیرا ہم سایہ تری سائے سے ڈرتا جائے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Iftikhar Naseem
ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو
Iftikhar Naseem
0 likes
خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
تمام عمر سفر کا ثمر ملےگا مجھے پ سے افق ہی کہی اب تو گھر ملےگا مجھے یہ ک سے لیے ہے وہ ہے وہ خلا در خلا اطراف ہوں حقیقت کون ہے جو میرا چاند پر ملےگا مجھے ملا لگ ج سے کے لیے گھر کا نرم گرم سکون یہیں کہی حقیقت سر رہگزر ملےگا مجھے عذاب یہ ہے کہ تنہا کٹےگی عمر تمام سفر کے بعد کوئی ہم سفر ملےگا مجھے کہی دکھائی لگ دے کاش چھوڑنے والا کہونگا کیا ہے وہ ہے وہ اسے اب ا گر ملےگا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
لبا سے خاک صحیح پر کہی ضرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا رہی ہے چمک آنکھ کی کہ نور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی نہیں جو مری لو سے راستہ دیکھے ہوا تند بجھا دے تری حضور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پناہ دیتا نہیں کوئی اور سیارہ بھٹک رہا ہوں خلا ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں گرا کے مجھے تو بھی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھے گلے سے لگا لے ترا غرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل پڑا ہوں یوںہی اتنی برف باری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کے گرم لہو کا غضب سرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے غلطیاں کی نسیم گلزار ناز کسے پکاروں ک ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ بے قصور ہوں ہے وہ ہے وہ
Iftikhar Naseem
0 likes
لگ جانے کب حقیقت پلٹ آئیں در کھلا رکھنا گئے ہوئے کے لیے دل ہے وہ ہے وہ کچھ جگہ رکھنا ہزار تلخ ہوں یادیں م گر حقیقت جب بھی ملے زبان پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا لگ ہوں کہ قرب ہی پھروں مرگ ربط بن جائے حقیقت اب ملے تو ذرا ا سے سے فاصلہ رکھنا اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف جو بے وجہ بھول گیا تو ا سے کو یاد کیا رکھنا ابھی لگ علم ہوں ا سے کو لہو کی لذت کا یہ راز ا سے سے بے حد دیر تک چھپا رکھنا کبھی لگ لانا مسائل گھروں کے دفترون ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیا ہے جسے چوم کر ہوا ہے وہ ہے وہ نسیم گلزار ناز اسے ہمیشہ حفاظت ہے وہ ہے وہ اے خدا رکھنا
Iftikhar Naseem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Naseem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.







