ghazalKuch Alfaaz

hava chale varaq-e-arzu palat jaae tulua ho koi chehra to dhund chhat jaae yahi hai vaqt ki khvabon ke badban kholo kahin na phir se nadi ansuon ki ghat jaae bulandiyon ki havas hi zamin par laai kaho falak se ki ab raste se hat jaae giraft dhili karo vaqt ko guzarne do ki dor phir na kahin saaton ki kat jaae isi liye nahin sote hain ham ki duniya men shab-e-firaq ki saughhat sab men bat jaae hawa chale waraq-e-arzu palat jae tulua ho koi chehra to dhund chhat jae yahi hai waqt ki khwabon ke baadban kholo kahin na phir se nadi aansuon ki ghat jae bulandiyon ki hawas hi zamin par lai kaho falak se ki ab raste se hat jae giraft dhili karo waqt ko guzarne do ki dor phir na kahin saaton ki kat jae isi liye nahin sote hain hum ki duniya mein shab-e-firaq ki saughat sab mein bat jae

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

جو پردہ داری چلی تو یاری نہیں چلےگی ہماری دنیا ہے وہ ہے وہ دنیا داری نہیں چلےگی تمہارے جانے پہ دل کا دفترون سمیٹ لیںگے پھروں ا سے سڑک پر کوئی سواری نہیں چلےگی پرندے بھی بے گھری سے پہلے یہ سوچتے تھے کہ سبز پیڑوں پہ کوئی آری نہیں چلےگی ہم اپنی مرضی سے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہا کریںگے ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ بھی کیا ہماری نہیں چلےگی تمہاری چیخوں سے حقیقت دریچہ نہیں کھلےگا بڑی دکانوں پہ ریزگاری نہیں چلےگی حضور والا یہ آشو پلیا کا دل ہے ٹیڈی حسین چہروں کی ہوشیاری نہیں چلےگی

Ashu Mishra

15 likes

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

21 likes

حقیقت آدمی نہیں ہے مکمل نقص ہے ماتھے پہ ا سے کے چوٹ کا گہرا نشان ہے حقیقت کر رہے ہیں عشق پہ سنجیدہ گفتگو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں میرا کہی اور دھیان ہے سامان کچھ نہیں ہے پھٹے حال ہے م گر جھولے ہے وہ ہے وہ ا سے کے پا سے کوئی سنودھان ہے ا سے سر پھرے کو یوں نہیں بہلا سکوگے آپ حقیقت آدمی نیا ہے م گر ساودھان ہے فسلے جو ا سے جگہ تو لڑھکتے چلے گئے ہم کو پتا نہیں تھا کہ اتنی ڈھلان ہے دیکھے ہیں ہم نے دور کئی اب خبر نہیں پاؤں تلے زمین ہے یا آسمان ہے حقیقت آدمی ملا تھا مجھے ا سے کی بات سے ایسا لگا کہ حقیقت بھی بے حد بے زبان ہے

Dushyant Kumar

12 likes

یہ رحمت ہو جائے ہمپر اگلے سال کاش چلے جائیں اپنے گھر اگلے سال ہاتھ نجومی نے دیکھا اور یہ بولا آپ سفل ہو جائیں گے پر اگلے سال بارہ ماس دیا ہے جتنا دکھ تم نے اتنی خوشیاں برسے تم پر اگلے سال فون جنم دن پر ہی شاید وہ کر دے جلدی آئے یار ستمبر اگلے سال ہم چنو کا بچپن یہ کہ کر گزرا لے آئیں گے اچھے نمبر اگلے سال

Tanoj Dadhich

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shahryar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shahryar's ghazal.