hazaron dukh paden sahna mohabbat mar nahin sakti hai tum se bas yahi kahna mohabbat mar nahin sakti tira har baar mere khat ko padhna aur ro dena mira har baar likh dena mohabbat mar nahin sakti kiya tha ham ne campus ki nadi par ik hasin vaada bhale ham ko pade marna mohabbat mar nahin sakti purane ahd ko jab zinda karne ka khayal aae mujhe bas itna likh dena mohabbat mar nahin sakti vo tera hijr ki shab phone rakhne se zara pahle bahut rote hue kahna mohabbat mar nahin sakti gae lamhat fursat ke kahan se dhund kar laun vo pahron haath par likhna mohabbat mar nahin sakti hazaron dukh paden sahna mohabbat mar nahin sakti hai tum se bas yahi kahna mohabbat mar nahin sakti tera har bar mere khat ko padhna aur ro dena mera har bar likh dena mohabbat mar nahin sakti kiya tha hum ne campus ki nadi par ek hasin wada bhale hum ko pade marna mohabbat mar nahin sakti purane ahd ko jab zinda karne ka khayal aae mujhe bas itna likh dena mohabbat mar nahin sakti wo tera hijr ki shab phone rakhne se zara pahle bahut rote hue kahna mohabbat mar nahin sakti gae lamhat fursat ke kahan se dhund kar laun wo pahron hath par likhna mohabbat mar nahin sakti
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
More from Wasi Shah
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے جاناں سے ب سے یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار مری خط کو پڑھنا اور رو دینا میرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپ سے کی ن گرا پر اک حسین وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانی عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئی مجھے ب سے اتنا لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی حقیقت تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے بے حد روتے ہوئے کہنا محبت مر نہیں سکتی گئے لمحات فرصت کے ک ہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں حقیقت پہروں ہاتھ پر لکھنا محبت مر نہیں سکتی
Wasi Shah
7 likes
سمندر ہے وہ ہے وہ اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑ کیوں ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لگ جانے ہوں گیا تو ہوں ا سے دودمان حسا سے ہے وہ ہے وہ کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارا دن بے حد مصروف رہتا ہوں م گر جیوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفل سے کے ماتھے پر الم کی داستانے ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے م گر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مری دل پر وسی ہے وہ ہے وہ جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
Wasi Shah
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Wasi Shah.
Similar Moods
More moods that pair well with Wasi Shah's ghazal.







