ghazalKuch Alfaaz

ik jaam khanakta jaam ki saaqi raat guzarne vaali hai ik hosh-ruba inaam ki saaqi raat guzarne vaali hai vo dekh sitaron ke moti har aan bikharte jaate hain aflak pe hai kohram ki saaqi raat guzarne vaali hai go dekh chuka huun pahle bhi nazzara dariya-noshi ka ek aur sala-e-am ki saaqi raat guzarne vaali hai ye vaqt nahin hai baton ka palkon ke saae kaam men la ilham koi ilham ki saaqi raat guzarne vaali hai mad-hoshi men ehsas ke unche ziine se gir jaane de is vaqt na mujh ko thaam ki saaqi raat guzarne vaali hai ek jam khanakta jam ki saqi raat guzarne wali hai ek hosh-ruba inam ki saqi raat guzarne wali hai wo dekh sitaron ke moti har aan bikharte jate hain aflak pe hai kohram ki saqi raat guzarne wali hai go dekh chuka hun pahle bhi nazzara dariya-noshi ka ek aur sala-e-am ki saqi raat guzarne wali hai ye waqt nahin hai baaton ka palkon ke sae kaam mein la ilham koi ilham ki saqi raat guzarne wali hai mad-hoshi mein ehsas ke unche zine se gir jaane de is waqt na mujh ko tham ki saqi raat guzarne wali hai

Related Ghazal

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے

Sandeep Thakur

50 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

یوں اپنی پیا سے کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہم سلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہم میاں ب سے موت ہی سچ ہے و ہاں یہ لکھ گیا تو کوئی ج ہاں پر زندگانی زندگانی لکھ رہے تھے ہم ملے تجھ سے تو دنیا کو سہانی لکھ دیا ہم نے وگر لگ کب سے ا سے کو بے معنی لکھ رہے تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ گر پڑی کل رات حقیقت دیوار رو رو کر کہ ج سے پہ اپنے ماضی کی کہانی لکھ رہے تھے ہم

Varun Anand

27 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

More from Qateel Shifai

تتلیوں کا رنگ ہوں یا جھومتے بادل کا رنگ ہم نے ہر اک رنگ کو جانا تری آنچل کا رنگ تیری آنکھوں کی چمک ہے یا ستاروں کی ضیا رات کا ہے غپ اندھیرا یا تری کاجل کا رنگ دھڑکنوں کے تال پر حقیقت حال اپنے دل کا ہے چنو گوری کے تھرکتے پاؤں ہے وہ ہے وہ پائل کا رنگ پھینکنا جاناں سوچ کر لفظوں کا یہ کڑوا گلال پھیل جاتا ہے کبھی صدیوں پہ بھی اک پل کا رنگ آہ یہ رنگین موسم خون کی برسات کا چھا رہا ہے عقل پر جذبات کی ہلچل کا رنگ اب تو شبنم کا ہر اک اندھیرا ہے کنکر کی طرح ہاں اسی گلشن پہ چھایا تھا کبھی مخمل کا رنگ پھروں رہے ہیں لوگ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لیے خنجر کھلے کوچے کوچے ہے وہ ہے وہ اب آتا ہے نظر مقتل کا رنگ چار جانب ج سے کی رعنائی کے چرچے ہیں قتیل جانے کب سر و ساماں ہم ا سے آنے والی کل کا رنگ

Qateel Shifai

1 likes

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ہے وہ ہے وہ گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تری دامن پر گرا کر بوند کو اندھیرا بنانا چاہتا ہوں تھک گیا تو ہے وہ ہے وہ کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے ہے وہ ہے وہ یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی ہے وہ ہے وہ اندھیرا روشنی کو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تری زانو پہ آئی موت بھی ہے وہ ہے وہ شاعرا لگ چاہتا ہوں

Qateel Shifai

6 likes

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں لگ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گواہ بنایا ہے سمے نے اپنا ب نام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے سمے کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ کیا ایک بھی نہیں منصور کہی گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں بجا کہ خو وفا ایک بھی حسین ہے وہ ہے وہ نہیں ک ہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں جو وصف ہم ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں کریں کسی ہے وہ ہے وہ تلاش ا گر ضمیر ہے منجملہ و اسباب ماتم آؤ سچ بولیں چھپائے سے کہی سیاہ بخت ہیں داغ چہرے کے نظر ہے آئی لگ بردار آؤ سچ بولیں قتیل جن پہ صدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے حقیقت گنہگار آؤ سچ بولیں

Qateel Shifai

0 likes

رابطہ لاکھ صحیح قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے م گر سمے کی رفتار کے ساتھ غم لگے رہتے ہیں ہر آن خوشی کے پیچھے دشمنی دھوپ کی ہے سایہ دیوار کے ساتھ ک سے طرح اپنی محبت کی ہے وہ ہے وہ تکمیل کروں چارہ زندگی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے اک لگ اک خوف بھی ہے جرات اظہار کے ساتھ دشمنی مجھ سے کیے جا م گر اپنا بن کر جان لے لے مری صیاد م گر پیار کے ساتھ دو گھڑی آؤ مل آئیں کسی تاکتے سے قتیل حضرت ذوق تو وابستہ ہیں دربار کے ساتھ

Qateel Shifai

2 likes

حقیقت بے وجہ کہ ہے وہ ہے وہ ج سے سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے خوبصورت نہیں کرتا پکڑا ہی گیا تو ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو سچا ہوں م گر اپنی وکالت نہیں کرتا کیوں بخش دیا مجھ سے گنہگار کو مولا منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کو سے رہے ہیں چوروں کو م گر کوئی ملامت نہیں کرتا ک سے قوم کے دل ہے وہ ہے وہ نہیں جذبات ابراہیم ک سے ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا دیتے ہیں اجالے مری سجدوں کی گواہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپ کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ عبادت نہیں کرتا بھولا نہیں ہے وہ ہے وہ آج بھی آداب جوانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا انسان یہ سمجھیں کہ ی ہاں دفن خدا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا دنیا ہے وہ ہے وہ قتیل ا سے سا منہافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Qateel Shifai

8 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qateel Shifai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qateel Shifai's ghazal.