ghazalKuch Alfaaz

ik umr se ham tum ashna hain ham se mah o anjum ashna hain dil dubta ja raha hai paiham lab hain ki tabassum ashna hain un manzilon ka suraghh kam hai jin manzilon men gum ashna hain kuchh chara-e-dard-e-ashnai kis soch men gum-sum ashna hain is daur men tishna-kam saaqi ham jaise kai khum-ashna hain ek umr se hum tum aashna hain hum se mah o anjum aashna hain dil dubta ja raha hai paiham lab hain ki tabassum aashna hain un manzilon ka suragh kam hai jin manzilon mein gum aashna hain kuchh chaara-e-dard-e-ashnai kis soch mein gum-sum aashna hain is daur mein tishna-kaam saqi hum jaise kai khum-ashna hain

Related Ghazal

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

More from Hafeez Hoshiarpuri

कुछ इस तरह से नज़र से गुज़र गया कोई कि दिल को ग़म का सज़ा-वार कर गया कोई दिल-ए-सितम-ज़दा को जैसे कुछ हुआ ही नहीं ख़ुद अपने हुस्न से यूँँ बे-ख़बर गया कोई वो एक जल्वा-ए-सद-रंग इक हुजूम-ए-बहार न जाने कौन था जाने किधर गया कोई नज़र कि तिश्ना-ए-दीदार थी रही महरूम नज़र उठाई तो दिल में उतर गया कोई निगाह-ए-शौक़ की महरूमियों से ना-वाक़िफ़ निगाह-ए-शौक़ पे इल्ज़ाम धर गया कोई अब उन के हुस्न में हुस्न-ए-नज़र भी शामिल है कुछ और मेरी नज़र से सँवर गया कोई किसी के पाँव की आहट कि दिल की धड़कन थी हज़ार बार उठा सू-ए-दर गया कोई नसीब-ए-अहल-ए-वफ़ा ये सुकून-ए-दिल तो न था ज़रूर नाला-ए-दिल बे-असर गया कोई उठा फिर आज मिरे दिल में रश्क का तूफ़ाँ फिर उन की राह से बा-चश्म-ए-तर गया कोई ये कह के याद करेंगे 'हफ़ीज़' दोस्त मुझे वफ़ा की रस्म को पाइंदा कर गया कोई

Hafeez Hoshiarpuri

0 likes

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا ا سے انتظار ہے وہ ہے وہ ک سے ک سے سے پیار ہم نے کیا تلاش دوست کو اک عمر چاہیے اے دوست کہ ایک عمر ترا انتظار ہم نے کیا تری خیال ہے وہ ہے وہ دل شادماں رہا برسوں تری حضور اسے سوگوار ہم نے کیا یہ تشنہ لبی ہے کے ان سے قریب رہ کر بھی عرو سے بہار یاد ا نہیں بار بار ہم نے کیا

Hafeez Hoshiarpuri

3 likes

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا ارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزل رستے ہے وہ ہے وہ جنہیں پاس رہا ہم سفری کا اب خانقاہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایک اک سلسلہ ہے قافلہ بے خبری کا ہر نقش ہے آئینہ نیرنگ تماشا دنیا ہے کہ حاصل مری حیران نظری کا اب خو سے تا عرش زبوں حال ہے فطرت اک معرکہ در پیش ہے عزم بشری کا کب ملتی ہے یہ دولت بیدار کسی کو اور ہے وہ ہے وہ ہوں کہ رونا ہے اسی دیدہ وری کا بے واسطہ عشق بھی رنگ رکھ پرویز عنوان ہے فرہاد کی خونی جگری کا آخر تری در پہ مجھے لے آئی محبت دیکھا نہ گیا تو حال مری در بدری کا دل ہے وہ ہے وہ ہوں فقط جاناں ہی جاناں آنکھوں پہ نہ جاؤ آنکھوں کو تو ہے روگ پریشاں نظری کا بے پیروی میر عروس بہار اپنی رویش ہے ہم پر کوئی الزام نہیں کم ہنری کا

Hafeez Hoshiarpuri

0 likes

آج ا نہیں کچھ ا سے طرح جی کھول کر دیکھا کیے ایک ہی لمحے ہے وہ ہے وہ چنو عمر بھر دیکھا کیے دل ا گر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی ج سے دودمان تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کیے خود فروشا لگ ادا تھی مری صورت دیکھنا اپنے ہی رکے بانداز د گر دیکھا کیے نا شنا سے غم فقط داد ہنر دیتے رہے ہم متاع غم کو رسوا ہنر دیکھا کیے دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہوں یا لگ ہوں ہم جدھر دیکھا کیے پہروں ادھر دیکھا کیے حسن کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے حسن کی خاطر عرو سے بہار ور لگ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کیے

Hafeez Hoshiarpuri

0 likes

روشنی سی کبھی کبھی دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل بے نشاں سے آتی ہے لوٹ کر نور کی کرن چنو سفر لا مکان سے آتی ہے نو انسان ہے گوش بر آواز کیا خبر ک سے ج ہاں سے آتی ہے اپنی پڑنا بازگشت لگ ہوں اک صدا آ سماں سے آتی ہے تختہ دار ہے کہ تختہ گل بو خوں گلستاں سے آتی ہے دل سے آتی ہے بات لب پہ عرو سے بہار بات دل ہے وہ ہے وہ ک ہاں سے آتی ہے

Hafeez Hoshiarpuri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Hoshiarpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Hoshiarpuri's ghazal.