ghazalKuch Alfaaz

is se pahle ki be-vafa ho jaaen kyuun na ai dost ham juda ho jaaen tu bhi hiire se ban gaya patthar ham bhi kal jaane kya se kya ho jaaen tu ki yakta tha be-shumar hua ham bhi tuten to ja-ba-ja ho jaaen ham bhi majburiyon ka uzr karen phir kahin aur mubtala ho jaaen ham agar manzilen na ban paae manzilon tak ka rasta ho jaaen der se soch men hain parvane raakh ho jaaen ya hava ho jaaen ishq bhi khel hai nasibon ka khaak ho jaaen kimiya ho jaaen ab ke gar tu mile to ham tujh se aise lipten tiri qaba ho jaaen bandagi ham ne chhod di hai 'faraz' kya karen log jab khuda ho jaaen is se pahle ki be-wafa ho jaen kyun na ai dost hum juda ho jaen tu bhi hire se ban gaya patthar hum bhi kal jaane kya se kya ho jaen tu ki yakta tha be-shumar hua hum bhi tuten to ja-ba-ja ho jaen hum bhi majburiyon ka uzr karen phir kahin aur mubtala ho jaen hum agar manzilen na ban pae manzilon tak ka rasta ho jaen der se soch mein hain parwane rakh ho jaen ya hawa ho jaen ishq bhi khel hai nasibon ka khak ho jaen kimiya ho jaen ab ke gar tu mile to hum tujh se aise lipten teri qaba ho jaen bandagi hum ne chhod di hai 'faraaz' kya karen log jab khuda ho jaen

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

More from Ahmad Faraz

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے تری بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے اب تو یہ آرزو ہے کہ حقیقت زخم کھائیے تا زندگی یہ دل لگ کوئی آرزو کرے تجھ کو بھلا کے دل ہے حقیقت شرمندہ نظر اب کوئی حادثہ ہی تری رو برو کرے چپ چاپ اپنی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہو فراز دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

Ahmad Faraz

8 likes

ا سے کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے چنو کوئی در دل پر ہوں ستادہ کب سے ایک سایہ لگ درون ہے لگ بروں ہے یوں ہے جاناں نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرہ خوں ہے یوں ہے جاناں محبت ہے وہ ہے وہ ک ہاں سود و زیاں لے آئی عشق کا نام خرد ہے لگ جنوں ہے یوں ہے اب جاناں آئی ہوں مری جان تماشا کرنے اب تو دریا ہے وہ ہے وہ تلاطم لگ سکون ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز یہ بھی اک سلسلہ کن فیکون ہے یوں ہے

Ahmad Faraz

4 likes

قربتوں ہے وہ ہے وہ بھی جدائی کے زمانے مانگے دل حقیقت بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم لگ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانی مانگے زندگی ہم تری داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ صدا آئی لگ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز مل گئے جاناں بھی تو کیا اور لگ جانے مانگے

Ahmad Faraz

2 likes

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بے حد ہے تجھ کو ا گر بھول جائیں ہم صحرا زندگی ہے وہ ہے وہ کوئی دوسرا لگ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم ا سے زندگی ہے وہ ہے وہ اتنی فراغت کسے نصیب اتنا لگ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو لگ تھی اے شب فراق آ تری راستے ہے وہ ہے وہ ستارے تم لوٹائیں ہم حقیقت لوگ اب ک ہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا لگ کردہ تجھے بھی رولائیں ہم

Ahmad Faraz

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.