اسی لیے تو ی ہاں رتجگا زیادہ ہے کہ مری خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت جاگتا زیادہ ہے مجھے تو دور سے عادت ہے اس کا کو تکنے کی سو ا سے کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے اسے تمیز بھی تو ہونی چاہیے تھی پھروں ا گر حقیقت آپ سے لکھا پڑھا زیادہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کسی پہ بے حد اعتبار کرتی ہوں خوشی کی بات ہے پر سانحہ زیادہ ہے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Tajdeed Qaiser
سکون جاناں سے میرا اطمینان جاناں سے ہے حسین بے وجہ میرا کل جہان جاناں سے ہے تمہارا لم سے مجھے بےشمار کرتا ہے مری نگاہ ہے جاناں سے اڑان جاناں سے ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ راز عشق بیاں کر نہیں سکی اب تک یہی خبر ہے زمان و مکان جاناں سے ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہوش جو کھو دوں تو سامنے آنا بکھر کے دیکھا ہے میرا دھیان جاناں سے ہے جو جاناں نہیں تو کریں ک سے پہ بات ہم تجدید کہ اپنی خموشی اپنا نقص جاناں سے ہے
Tajdeed Qaiser
8 likes
کیوں تری در سے ہی چپ چاپ گزر آتے ہیں جو خداؤں کی طرح بن کے شرر آتے ہیں حقیقت میرا ہوں کے بھی ہوں سکتا نہیں حیرت ہے پھروں بھی ہر حال ہے وہ ہے وہ ہم ساتھ نظر آتے ہیں سمے ہے دوست اسے دھیان ہے وہ ہے وہ رکھ کام ہے وہ ہے وہ لا خواب ویران جزیرے پہ اتر آتے ہیں ا سے کے وحدت نے مجھے اپنی طرف کھینچا تھا ورنا رستے ہے وہ ہے وہ تو کتنے ہی شجر آتے ہیں ہر کوئی چاند سا چہرہ نہیں ہوتا سچا آبشاروں کی ت ہوں ہے وہ ہے وہ بھی کھنڈر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حیران ہوں ا سے ربط پہ ہم دونوں کے لے کے ہر بار عدو تیری خبر آتے ہیں
Tajdeed Qaiser
6 likes
کیسے ممکن تھا تجھے دل سے بھلائے جاتے حق یہی تھا کہ تری ناز اٹھائے جاتے زندگی راستہ دیتی نہیں آسانی سے ہم سفر یوں ہی نہیں دوست بنائے جاتے تیری خاطر تو ہم اپنوں سے بھی لڑ بیٹھے تھے خواب دیوار سے کیسے لگ لگائے جاتے دیکھتے ہم بھی کہ ک سے ک سے کی طلب ہے دنیا جتنے قی گرا تھے سبھی سامنے لائے جاتے آزمانا ہی تجھے ہوتا ا گر مری جان راستہ دے کے مسائل لگ بتائے جاتے پہلے ہم روح کی دیوار گراتے اور پھروں راہ ہے وہ ہے وہ تیری کئی جال بچھائے جاتے فاصلہ رکھتے م گر اتنا کہ سان سے آتی رہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ کئی پھول کھلائے جاتے
Tajdeed Qaiser
5 likes
ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے پھروں ا سے کے بدلے ہے وہ ہے وہ جو بھی چاہے وصول کر لے جسے بھی چاہے بٹھائے سر پہ گھمائے دنیا جسے بھی چاہے تو اپنے پیروں کی دھول کر لے و ہاں تو خواہش کی بارگاہ ہے وہ ہے وہ جھکا ہوا تھا ی ہاں محبت کے زاویے کو اصول کر لے ابھی تجھے دین دنیا داری ک ہاں پتا ہے ابھی تو کچھ بھی نہیں گیا تو کوئی بھول کر لے
Tajdeed Qaiser
11 likes
اس کا کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو ا سے کی مرضی ہے جاناں ا سے پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ب سے اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہوں بھلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو جاناں ملوگے نہیں تو ہے وہ ہے وہ جیتے جی مر جاؤںگی با خدا ایسی خوشفہ میاں پالنا چھوڑ دو مری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے بندھی رہنے دو ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ جاناں بھی برا سوچنا چھوڑ دو گیلی مٹی کی خوشبو مجھے سونے دیتی نہیں مری بالوں ہے وہ ہے وہ جاناں انگلياں پھیرنا چھوڑ دو
Tajdeed Qaiser
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tajdeed Qaiser.
Similar Moods
More moods that pair well with Tajdeed Qaiser's ghazal.







