ghazalKuch Alfaaz

ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے پھروں ا سے کے بدلے ہے وہ ہے وہ جو بھی چاہے وصول کر لے جسے بھی چاہے بٹھائے سر پہ گھمائے دنیا جسے بھی چاہے تو اپنے پیروں کی دھول کر لے و ہاں تو خواہش کی بارگاہ ہے وہ ہے وہ جھکا ہوا تھا ی ہاں محبت کے زاویے کو اصول کر لے ابھی تجھے دین دنیا داری ک ہاں پتا ہے ابھی تو کچھ بھی نہیں گیا تو کوئی بھول کر لے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی

Abrar Kashif

46 likes

More from Tajdeed Qaiser

کیوں تری در سے ہی چپ چاپ گزر آتے ہیں جو خداؤں کی طرح بن کے شرر آتے ہیں حقیقت میرا ہوں کے بھی ہوں سکتا نہیں حیرت ہے پھروں بھی ہر حال ہے وہ ہے وہ ہم ساتھ نظر آتے ہیں سمے ہے دوست اسے دھیان ہے وہ ہے وہ رکھ کام ہے وہ ہے وہ لا خواب ویران جزیرے پہ اتر آتے ہیں ا سے کے وحدت نے مجھے اپنی طرف کھینچا تھا ورنا رستے ہے وہ ہے وہ تو کتنے ہی شجر آتے ہیں ہر کوئی چاند سا چہرہ نہیں ہوتا سچا آبشاروں کی ت ہوں ہے وہ ہے وہ بھی کھنڈر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حیران ہوں ا سے ربط پہ ہم دونوں کے لے کے ہر بار عدو تیری خبر آتے ہیں

Tajdeed Qaiser

6 likes

اس کا کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو ا سے کی مرضی ہے جاناں ا سے پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ب سے اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہوں بھلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو جاناں ملوگے نہیں تو ہے وہ ہے وہ جیتے جی مر جاؤںگی با خدا ایسی خوشفہ میاں پالنا چھوڑ دو مری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے بندھی رہنے دو ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ جاناں بھی برا سوچنا چھوڑ دو گیلی مٹی کی خوشبو مجھے سونے دیتی نہیں مری بالوں ہے وہ ہے وہ جاناں انگلياں پھیرنا چھوڑ دو

Tajdeed Qaiser

15 likes

کیسے ممکن تھا تجھے دل سے بھلائے جاتے حق یہی تھا کہ تری ناز اٹھائے جاتے زندگی راستہ دیتی نہیں آسانی سے ہم سفر یوں ہی نہیں دوست بنائے جاتے تیری خاطر تو ہم اپنوں سے بھی لڑ بیٹھے تھے خواب دیوار سے کیسے لگ لگائے جاتے دیکھتے ہم بھی کہ ک سے ک سے کی طلب ہے دنیا جتنے قی گرا تھے سبھی سامنے لائے جاتے آزمانا ہی تجھے ہوتا ا گر مری جان راستہ دے کے مسائل لگ بتائے جاتے پہلے ہم روح کی دیوار گراتے اور پھروں راہ ہے وہ ہے وہ تیری کئی جال بچھائے جاتے فاصلہ رکھتے م گر اتنا کہ سان سے آتی رہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ کئی پھول کھلائے جاتے

Tajdeed Qaiser

5 likes

سکون جاناں سے میرا اطمینان جاناں سے ہے حسین بے وجہ میرا کل جہان جاناں سے ہے تمہارا لم سے مجھے بےشمار کرتا ہے مری نگاہ ہے جاناں سے اڑان جاناں سے ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ راز عشق بیاں کر نہیں سکی اب تک یہی خبر ہے زمان و مکان جاناں سے ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہوش جو کھو دوں تو سامنے آنا بکھر کے دیکھا ہے میرا دھیان جاناں سے ہے جو جاناں نہیں تو کریں ک سے پہ بات ہم تجدید کہ اپنی خموشی اپنا نقص جاناں سے ہے

Tajdeed Qaiser

8 likes

اسی لیے تو ی ہاں رتجگا زیادہ ہے کہ مری خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت جاگتا زیادہ ہے مجھے تو دور سے عادت ہے اس کا کو تکنے کی سو ا سے کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے اسے تمیز بھی تو ہونی چاہیے تھی پھروں ا گر حقیقت آپ سے لکھا پڑھا زیادہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کسی پہ بے حد اعتبار کرتی ہوں خوشی کی بات ہے پر سانحہ زیادہ ہے

Tajdeed Qaiser

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tajdeed Qaiser.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tajdeed Qaiser's ghazal.