کیسے ممکن تھا تجھے دل سے بھلائے جاتے حق یہی تھا کہ تری ناز اٹھائے جاتے زندگی راستہ دیتی نہیں آسانی سے ہم سفر یوں ہی نہیں دوست بنائے جاتے تیری خاطر تو ہم اپنوں سے بھی لڑ بیٹھے تھے خواب دیوار سے کیسے لگ لگائے جاتے دیکھتے ہم بھی کہ ک سے ک سے کی طلب ہے دنیا جتنے قی گرا تھے سبھی سامنے لائے جاتے آزمانا ہی تجھے ہوتا ا گر مری جان راستہ دے کے مسائل لگ بتائے جاتے پہلے ہم روح کی دیوار گراتے اور پھروں راہ ہے وہ ہے وہ تیری کئی جال بچھائے جاتے فاصلہ رکھتے م گر اتنا کہ سان سے آتی رہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ کئی پھول کھلائے جاتے
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Tajdeed Qaiser
کیوں تری در سے ہی چپ چاپ گزر آتے ہیں جو خداؤں کی طرح بن کے شرر آتے ہیں حقیقت میرا ہوں کے بھی ہوں سکتا نہیں حیرت ہے پھروں بھی ہر حال ہے وہ ہے وہ ہم ساتھ نظر آتے ہیں سمے ہے دوست اسے دھیان ہے وہ ہے وہ رکھ کام ہے وہ ہے وہ لا خواب ویران جزیرے پہ اتر آتے ہیں ا سے کے وحدت نے مجھے اپنی طرف کھینچا تھا ورنا رستے ہے وہ ہے وہ تو کتنے ہی شجر آتے ہیں ہر کوئی چاند سا چہرہ نہیں ہوتا سچا آبشاروں کی ت ہوں ہے وہ ہے وہ بھی کھنڈر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حیران ہوں ا سے ربط پہ ہم دونوں کے لے کے ہر بار عدو تیری خبر آتے ہیں
Tajdeed Qaiser
6 likes
اسی لیے تو ی ہاں رتجگا زیادہ ہے کہ مری خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت جاگتا زیادہ ہے مجھے تو دور سے عادت ہے اس کا کو تکنے کی سو ا سے کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے اسے تمیز بھی تو ہونی چاہیے تھی پھروں ا گر حقیقت آپ سے لکھا پڑھا زیادہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کسی پہ بے حد اعتبار کرتی ہوں خوشی کی بات ہے پر سانحہ زیادہ ہے
Tajdeed Qaiser
14 likes
سکون جاناں سے میرا اطمینان جاناں سے ہے حسین بے وجہ میرا کل جہان جاناں سے ہے تمہارا لم سے مجھے بےشمار کرتا ہے مری نگاہ ہے جاناں سے اڑان جاناں سے ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ راز عشق بیاں کر نہیں سکی اب تک یہی خبر ہے زمان و مکان جاناں سے ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہوش جو کھو دوں تو سامنے آنا بکھر کے دیکھا ہے میرا دھیان جاناں سے ہے جو جاناں نہیں تو کریں ک سے پہ بات ہم تجدید کہ اپنی خموشی اپنا نقص جاناں سے ہے
Tajdeed Qaiser
8 likes
اس کا کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو ا سے کی مرضی ہے جاناں ا سے پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ب سے اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہوں بھلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو جاناں ملوگے نہیں تو ہے وہ ہے وہ جیتے جی مر جاؤںگی با خدا ایسی خوشفہ میاں پالنا چھوڑ دو مری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے بندھی رہنے دو ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ جاناں بھی برا سوچنا چھوڑ دو گیلی مٹی کی خوشبو مجھے سونے دیتی نہیں مری بالوں ہے وہ ہے وہ جاناں انگلياں پھیرنا چھوڑ دو
Tajdeed Qaiser
15 likes
ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے پھروں ا سے کے بدلے ہے وہ ہے وہ جو بھی چاہے وصول کر لے جسے بھی چاہے بٹھائے سر پہ گھمائے دنیا جسے بھی چاہے تو اپنے پیروں کی دھول کر لے و ہاں تو خواہش کی بارگاہ ہے وہ ہے وہ جھکا ہوا تھا ی ہاں محبت کے زاویے کو اصول کر لے ابھی تجھے دین دنیا داری ک ہاں پتا ہے ابھی تو کچھ بھی نہیں گیا تو کوئی بھول کر لے
Tajdeed Qaiser
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tajdeed Qaiser.
Similar Moods
More moods that pair well with Tajdeed Qaiser's ghazal.







