ghazalKuch Alfaaz

اتنا لگ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاو کا رستہ سنبھل پائےگی کے چل اوروں کے بل پہ بل لگ کر اتنا لگ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے ا سے نے آپ اور آپ ہی حقیقت کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھروں آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو لگ چل چل سنبھل پائےگی کے چل کیا چل سکےگا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہم تو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل ہے شمع سر کے بل جو محبت ہے وہ ہے وہ گرم ہوں پروا لگ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل بلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلشن ہے وہ ہے وہ مری ساتھ ذرا عطر مل کے چل گر قصد سو دل ہے ترا اے نگاہ یار دو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل جو امتحاں تباہ کرے اپنا اے وقار تو کہ دو ا سے کو طور پہ تو ا سے غزل کے چل

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Bahadur Shah Zafar

ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسم اللہ کے چار پانچ پھروں لیںگے بوسے پنجہ میزہ کے چار پانچ کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ دریا میں گر پڑا جو میرا اشک ایک گرم بت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں اور آگے دب چکے ہیں تلے گل خاک شہر یاراں کے چار پانچ راہیں ہیں دو مزاج و حقیقت ہے جن کا نام رستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ رنج و تاب مصیبت و غم یاس و درد و داغ آہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں زندا میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ ناز و ادا و غمزہ نگہ پل ماریں ہیں ایک دل کو یہ مینا نہ فلک مینا نہ فلک کے چار پانچ ایما ہے یہ کہ دیں گے نو دن کے بعد دل لکھ بھیجے خط میں شعر جو بے دل کے چار پانچ ہیرے کے فاتح

Bahadur Shah Zafar

0 likes

کیونکر لگ خاکسار رہیں اہل کین سے دور دیکھو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے فلک ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور پروا لگ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل ا سے کے رکھ آتشیں سے دور مضمون وصل و ہجر جو نامے ہے وہ ہے وہ ہے رقم ہے حرف بھی کہی سے ملے اور کہی سے دور گو تیر بے گماں ہے مری پا سے پر ابھی جائے نکل کے سی لگ چرخ بریں سے دور حقیقت کون ہے کہ جاتے نہیں آپ ج سے کے پا سے لیکن ہمیشہ بھاگتے ہوں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور حیران ہوں کہ ا سے کے مقابل ہوں آئی لگ جو پر غرور کھینچتا ہے ماہ مبیں سے دور یاں تک عدو کا پا سے ہے ان کو کہ بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بیٹھتے بھی ہیں تو مری ہم نشین سے دور جھمکے ہوں جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور دنیا دوں کی دے لگ محبت خدا وقار انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

Bahadur Shah Zafar

1 likes

जिगर के टुकड़े हुए जल के दिल कबाब हुआ ये इश्क़ जान को मेरे कोई अज़ाब हुआ किया जो क़त्ल मुझे तुम ने ख़ूब काम किया कि मैं अज़ाब से छूटा तुम्हें सवाब हुआ कभी तो शेफ़्ता उस ने कहा कभी शैदा ग़रज़ कि रोज़ नया इक मुझे ख़िताब हुआ पि यूँँ न रश्क से ख़ूँ क्यूँँकि दम-ब-दम अपना कि साथ ग़ैर के वो आज हम-शराब हुआ तुम्हारे लब के लब-ए-जाम ने लिए बोसे लब अपने काटा किया मैं न कामयाब हुआ गली गली तिरी ख़ातिर फिरा ब-चश्म-ए-पुर-आब लगा के तुझ से दिल अपना बहुत ख़राब हुआ तिरी गली में बहाए फिरे है सैल-ए-सरिश्क हमारा कासा-ए-सर क्या हुआ हबाब हुआ जवाब-ए-ख़त के न लिखने से ये हुआ मालूम कि आज से हमें ऐ नामा-बर जवाब हुआ मँगाई थी तिरी तस्वीर दिल की तस्कीं को मुझे तो देखते ही और इज़्तिराब हुआ सितम तुम्हारे बहुत और दिन हिसाब का एक मुझे है सोच ये ही किस तरह हिसाब हुआ 'ज़फ़र' बदल के रदीफ़ और तू ग़ज़ल वो सुना कि जिस का तुझ से हर इक शे'र इंतिख़ाब हुआ

Bahadur Shah Zafar

1 likes

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی لگ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفو گر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا تو کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ ا سے نے تو زنار بھی چھوڑا گوشے ہے وہ ہے وہ تری چشم سیاہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خا لگ خمّار بھی چھوڑا ا سے سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفل سے کو جو مارا تو لگ منصفی بھی چھوڑا ٹیڑھے لگ ہوں ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا جاناں پیار سے رکتے ہوں تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو حقیقت ج سے نے صدقے ہے وہ ہے وہ لگ اک پر اعتباری بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر ا سے کو ا سے شوخ نے تو دیکھنا ذائقہ بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے وقار ا سے نے حقیقت اقرار بھی چھوڑا

Bahadur Shah Zafar

0 likes

بھری ہے دل ہے وہ ہے وہ جو حسرت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں سنے ہے کون مصیبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو تو ہوں صاف تو کچھ ہے وہ ہے وہ بھی صاف تجھ سے ک ہوں تری ہے دل ہے وہ ہے وہ کدورت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ کوہکن ہے لگ مجنوں کہ تھے مری ہمدرد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا درد محبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں دل ا سے کو آپ دیا آپ ہی پشیمان ہوں کہ سچ ہے اپنی ندامت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں ک ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت پھروں اپنا قصہ وحشت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں تری سوا غم فرقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو دوست ہوں تو ک ہوں تجھ سے دوستی کی بات تجھے تو مجھ سے ناتے ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ مجھ کو کہنے کی طاقت ک ہوں تو کیا احوال لگ ا سے کو سننے کی فرصت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وقار ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں

Bahadur Shah Zafar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bahadur Shah Zafar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bahadur Shah Zafar's ghazal.