ghazalKuch Alfaaz

jab hua irfan to ghham aram-e-jan banta gaya soz-e-janan dil men soz-e-digaran banta gaya rafta rafta munqalib hoti gai rasm-e-chaman dhire dhire naghhma-e-dil bhi fughhan banta gaya main akela hi chala tha janib-e-manzil magar log saath aate gae aur karvan banta gaya main to jab janun ki bhar de saghhar-e-har-khas-o-am yuun to jo aaya vahi pir-e-mughhan banta gaya jis taraf bhi chal pade ham abla-payan-e-shauq khaar se gul aur gul se gulsitan banta gaya sharh-e-ghham to mukhtasar hoti gai us ke huzur lafz jo munh se na nikla dastan banta gaya dahr men 'majruh' koi javedan mazmun kahan main jise chhuta gaya vo javedan banta gaya jab hua irfan to gham aaram-e-jaan banta gaya soz-e-jaanan dil mein soz-e-digaran banta gaya rafta rafta munqalib hoti gai rasm-e-chaman dhire dhire naghma-e-dil bhi fughan banta gaya main akela hi chala tha jaanib-e-manzil magar log sath aate gae aur karwan banta gaya main to jab jaanun ki bhar de saghar-e-har-khas-o-am yun to jo aaya wahi pir-e-mughan banta gaya jis taraf bhi chal pade hum aabla-payan-e-shauq khar se gul aur gul se gulsitan banta gaya sharh-e-gham to mukhtasar hoti gai us ke huzur lafz jo munh se na nikla dastan banta gaya dahr mein 'majruh' koi jawedan mazmun kahan main jise chhuta gaya wo jawedan banta gaya

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

More from Majrooh Sultanpuri

یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

Majrooh Sultanpuri

4 likes

محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ

Majrooh Sultanpuri

1 likes

جلا کے جنوں صفات ہم دیار شام چلے جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے منزل سحر نہیں دہان زخم بھی نہیں غضب ن گر ہے ی ہاں دن چلے لگ رات چلے ہمارے لب لگ صحیح حقیقت پہنچتی صحیح وہیں اسیر ہے یاروں کہی سے بات چلے ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ ج ہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے ہوا ہم نوا کوئی ب پا سے طرز نوا تو دور تلک نقد وفا ہم بھی ساتھ ساتھ چلے بچا کے لائے ہم اے یار پھروں بھی رہزنوں اگرچہ لٹتے رہے رہزنوں کے ہاتھ چلے پھروں آئی توڑے کہ مانند مراسلات ہمارے نام گلوں کے قطار شیشہ چلے کاروان ہم سفران ہے یا خرام جام اہل حرم ہے یا چنو کائنات چلے بھلا ہی بیٹھے جب بغل تو اے مجروح بغل ہے وہ ہے وہ ہم بھی لیے اک صنم کا ہاتھ چلے

Majrooh Sultanpuri

0 likes

جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو

Majrooh Sultanpuri

1 likes

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح ا سے کوئے تشنہ لبی ہے وہ ہے وہ بے حد ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا تو ہے دولت بیدار کی طرح حقیقت تو کہی ہے اور م گر دل کے آ سے پا سے پھرتی ہے کوئی اجازت نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوںہی کہی کہی خم ہوں گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر لگ چلو راہ رفتگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں زخم ج گر ہوئے لب و رخسار کی طرح مجروح لکھ رہے ہیں حقیقت اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح

Majrooh Sultanpuri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.