جب سے قریب ہوں کے چلے زندگی سے ہم خود اپنے آئینے کو لگے اجنبی سے ہم کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے ملنے گئے کسی سے مل آئی کسی سے ہم اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی مجبور ہوں کے ملنے لگے ہر کسی سے ہم دور جام محفلوں کی فضاؤں ہے وہ ہے وہ زہر تھا زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم اچھی بھلی تھی دنیا گزارے کے واسطے الجھ ہوئے ہیں اپنی ہی خود آگہی سے ہم جنگل ہے وہ ہے وہ دور تک کوئی دشمن لگ کوئی دوست مانو سے ہوں چلے ہیں م گر بمبئی سے ہم
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
More from Nida Fazli
कभी कभी यूँँ भी हम ने अपने जी को बहलाया है जिन बातों को ख़ुद नहीं समझे औरों को समझाया है हम से पूछो इज़्ज़त वालों की इज़्ज़त का हाल कभी हम ने भी इक शहर में रह कर थोड़ा नाम कमाया है उस को भूले बरसों गुज़रे लेकिन आज न जाने क्यूँँ आँगन में हँसते बच्चों को बे-कारन धमकाया है उस बस्ती से छुट कर यूँँ तो हर चेहरे को याद किया जिस से थोड़ी सी अन-बन थी वो अक्सर याद आया है कोई मिला तो हाथ मिलाया कहीं गए तो बातें कीं घर से बाहर जब भी निकले दिन भर बोझ उठाया है
Nida Fazli
1 likes
جانے والوں سے رابطہ رکھنا دوستو رسم فاتحہ رکھنا گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ رونے کی کچھ جگہ رکھنا مسجدیں ہیں خارے کے لیے اپنے گھر ہے وہ ہے وہ کہی خدا رکھنا جسم ہے وہ ہے وہ پھیلنے لگا ہے شہر اپنی تنہائیاں بچا رکھنا ملنا جلنا ج ہاں ضروری ہے ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا عمر کرنے کو ہے پچا سے کو پار کون ہے ک سے جگہ پتا رکھنا
Nida Fazli
1 likes
یقین چاند پہ سورج ہے وہ ہے وہ اعتبار بھی رکھ م گر نگاہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے سمے پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی اڑائے نصیب صحیح ذہن ہے وہ ہے وہ بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں ہے وہ ہے وہ گل دستے یوں نہیں سجتے ج ہاں ہیں پھول وہیں آ سے پا سے بچھاؤ بھی رکھ پہاڑ گونجیں ن گرا گائے یہ ضروری ہے سفر کہی کا ہوں دل ہے وہ ہے وہ کسی کا پیار بھی رکھ
Nida Fazli
1 likes
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی صحیح جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی صحیح ہم ک ہاں کے دیوتا ہیں بےوفا حقیقت ہیں تو کیا گھر ہے وہ ہے وہ کوئی گھر کی ظفر ہے چلو یوں ہی صحیح حقیقت نہیں تو کوئی تو ہوگا کہی ا سے کی طرح جسم ہے وہ ہے وہ جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی صحیح میلے ہوں جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی صحیح بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنا آدمی ہے وہ ہے وہ آدمیت ہے چلو یوں ہی صحیح جیسی ہونی چاہیے تھی ویسی تو دنیا نہیں دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی صحیح
Nida Fazli
4 likes
مری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلاف ہر طرف ہے فوج آرائی محبت کے خلاف حرف سرمد خون دارا کے علاوہ شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہے جو سر اٹھائے بادشاہت کے خلاف پہلے جیسا ہی دکھی ہے آج بھی بوڑھا کبیر کوئی آیت کا مخالف کوئی مورت کے خلاف ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چپ ہوں تو بھی چپ ہے بات یہ سچ ہے م گر ہوں رہا ہے جو بھی حقیقت تو ہے طبیعت کے خلاف مدتوں کے بعد دیکھا تھا اسے اچھا لگا دیر تک ہنستا رہا حقیقت اپنی عادت کے خلاف
Nida Fazli
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







