ghazalKuch Alfaaz

जिस बज़्म में तू नाज़ से गुफ़्तार में आवे जाँ कालबद-ए-सूरत-ए-दीवार में आवे साए की तरह साथ फिरें सर्व ओ सनोबर तू इस क़द-ए-दिलकश से जो गुलज़ार में आवे तब नाज़-ए-गिराँ माइगी-ए-अश्क बजा है जब लख़्त-ए-जिगर दीदा-ए-ख़ूँ-बार में आवे दे मुझ को शिकायत की इजाज़त कि सितमगर कुछ तुझ को मज़ा भी मिरे आज़ार में आवे उस चश्म-ए-फ़ुसूँ-गर का अगर पाए इशारा तूती की तरह आइना गुफ़्तार में आवे काँटों की ज़बाँ सूख गई प्यास से या रब इक आबला-पा वादी-ए-पुर-ख़ार में आवे मर जाऊँ न क्यूँँ रश्क से जब वो तन-ए-नाज़ुक आग़ोश-ए-ख़म-ए-हल्क़ा-ए-ज़ुन्नार में आवे ग़ारत-गर-ए-नामूस न हो गर हवस-ए-ज़र क्यूँँ शाहिद-ए-गुल बाग़ से बाज़ार में आवे तब चाक-ए-गरेबाँ का मज़ा है दिल-ए-नालाँ जब इक नफ़स उलझा हुआ हर तार में आवे आतिश-कदा है सीना मिरा राज़-ए-निहाँ से ऐ वाए अगर मा'रिज़-ए-इज़हार में आवे गंजीना-ए-मअ'नी का तिलिस्म उस को समझिए जो लफ़्ज़ कि 'ग़ालिब' मिरे अश'आर में आवे

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Mirza Ghalib

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز

Mirza Ghalib

0 likes

حسد سے دل ا گر افسردہ ہے گرم تماشا ہوں کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہوں بقدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی بھروں یک گوشہ دامن گر آب ہفت دریا ہوں ا گر حقیقت بے گل مراد گرم خرام ناز آ جاوے کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہوں بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے کہ تار زادہ بھی کوہسار کو زنار مینا ہوں حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہوں بجائے دا لگ خرمن فرش پا انداز بیضا قمری میرا حاصل حقیقت نسخہ ہے کہ ج سے سے خاک پیدا ہوں کرے کیا ساز بینش حقیقت شہید درد آگاہی جسے مو دماغ بے خو گرا خواب زلیخا ہوں دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایانی نگہ لبریز خوشی و سینا معمور تمنا ہوں لگ دیکھیں رو یک دل سرد غیر از شمع کافوری خدایا ا سے دودمان بزم قسمیں گرم تماشا ہوں

Mirza Ghalib

0 likes

کہتے ہوں لگ دیں گے ہم دل ا گر پڑا پایا دل ک ہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم آہ نبھے گی دیکھی نالہ نارساء پایا سادگی و پرکاری بے خو گرا و ہوشیاری حسن کو ت غافل ہے وہ ہے وہ جرأت آزما پایا غنچہ پھروں لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن ا سے دودمان زبان ہم نے بارہا ڈھونڈا جاناں نے بارہا پایا شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے جاناں نے کیا مزہ پایا ہے ک ہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کہ ایک بےکسی تجھ کو عالم آشنا پایا خاک بازی امید کارخا لگ طفلی یا سے کو دو عالم سے لب خندہ وا پایا کیوں لگ وحشت غالب باج خواہ تسکین ہوں کشتہ ت غافل کو خصم خون بہا پایا فکر نالہ ہے وہ ہے وہ گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب ہے وہ ہ

Mirza Ghalib

1 likes

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے یہ ا گر چاہیں تو پھروں کیا چاہیے صحبت رنداں سے واجب ہے حذر جا مے اپنے کو کھینچا چاہیے چاہنے کو تری کیا سمجھا تھا دل بارے اب ا سے سے بھی سمجھا چاہیے چاک مت کر زیب مہ طلعتوں کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے دوستی کا پردہ ہے بیگانگی منا چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے دشمنی نے مری کھویا غیر کو ک سے دودمان دشمن ہے دیکھا چاہیے اپنی رسوائی ہے وہ ہے وہ کیا چلتی ہے سعی یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے منحصر مرنے پہ ہوں ج سے کی امید نا امی گرا ا سے کی دیکھا چاہیے غافل ان چشم خوباں کے واسطے چاہنے والا بھی اچھا چاہیے چاہتے ہیں خوب رویاں کو سرسری آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

Mirza Ghalib

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.