ghazalKuch Alfaaz

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

مجھ کو دروازے پر ہی روک لیا جاتا ہے مری آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے جاناں ا گر جانے لگے ہوں تو پلٹ کر مت دیکھو موت لکھکر تو توڑ دیا جاتا ہے تجھ کو بتلاتا م گر شرم بے حد آتی ہے تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے

Tehzeeb Hafi

90 likes

More from Ahmad Faraz

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

Ahmad Faraz

3 likes

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

جو غیر تھے حقیقت اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلان ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشش سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو اسی جنوں ہے وہ ہے وہ تو برباد گھر ہمارے ہوئے حقیقت اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے کسی کو چھوڑ کے حقیقت اب اگر ہمارے ہوئے

Ahmad Faraz

9 likes

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے بول اے ہوا شہر کدھر جانا چاہیے کب تک اسی کو آخری منزل کہی گے ہم کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیے حقیقت سمے آ گیا تو ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر گہرے سمندروں ہے وہ ہے وہ اتر جانا چاہیے اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے ج سے سمت بھی ہوں گرد سفر جانا چاہیے کچھ تو ثبوت خون تمنا کہی ملے ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیے یا اپنی خواہشوں کو مقد سے لگ جانتے یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے

Ahmad Faraz

10 likes

اول اول کی دوستی ہے ابھی اک غزل ہے کہ ہوں رہی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شہر وفا ہے وہ ہے وہ نو وارد حقیقت بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ایسا ک ہاں کا زود شنا سے حقیقت بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ پھروں بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں پھروں بھی کم کم سپردگی ہے ابھی کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتا بوندابان گرا بھی دھوپ بھی ہے ابھی خود کلامی ہے وہ ہے وہ کب یہ نشہ تھا ج سے طرح رو برو کوئی ہے ابھی رنگیں لاکھ خوبصورت ہوں دوریوں ہے وہ ہے وہ بھی دلکشی ہے ابھی فصل گل ہے وہ ہے وہ بہار پہلا گلاب ک سے کی زلفوں ہے وہ ہے وہ ٹانکتی ہے ابھی مدتیں ہوں گئیں فراز م گر حقیقت جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی

Ahmad Faraz

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.