ghazalKuch Alfaaz

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں کب تک کسی سے کوئی محبت سے پیش آئیں اس کا کا کو مری رویے پر دکھ ہے تو یار ہوں

Tehzeeb Hafi63 Likes

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

More from Tehzeeb Hafi

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہیں کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

44 likes

جب ا سے کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھروں ہے وہ ہے وہ بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

Tehzeeb Hafi

24 likes

آج جن جھیلوں کا ب سے کاغذ ہے وہ ہے وہ نقشہ رہ گیا تو ایک مدت تک ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں سے بہتا رہ گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے نا قابل برداشت سمجھا تھا م گر حقیقت مری دل ہے وہ ہے وہ رہا اور اچھا خاصہ رہ گیا تو حقیقت جو آدھے تھے تجھے مل کر مکمل ہوں گئے جو مکمل تھا حقیقت تری غم ہے وہ ہے وہ آدھا رہ گیا تو

Tehzeeb Hafi

61 likes

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ

Tehzeeb Hafi

35 likes

اک حویلی ہوں اس کا کا در بھی ہوں خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی ہے وہ ہے وہ بہتا دریا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی ہے وہ ہے وہ خود کو لکھ رہا ہوں خط اور ہے وہ ہے وہ اپنا نامہ بر بھی ہوں داستان ہوں ہے وہ ہے وہ اک طویل مگر تو جو سن لے تو بڑھوا بھی ہوں ایک فردار پیڑ ہوں لیکن وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

Tehzeeb Hafi

19 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.