جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے چمن سے دور رہ کے پھول کب شاداب رہتا ہے اندھیرے اور اجالے کی کہانی صرف اتنی ہے ج ہاں محبوب رہتا ہے وہیں مہتاب رہتا ہے مقدر ہے وہ ہے وہ لکھا کر لائے ہیں ہم بوریا نشینوں لیکن تصور ہے وہ ہے وہ ہمیشہ ریشم و کم خواب رہتا ہے ہزاروں بستیاں آ جائیں گی طوفان کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ اب آنسو نہیں سیلاب رہتا ہے بھلے لگتے ہیں سکولوں کی یونیفارم ہے وہ ہے وہ بچے کنول کے پھول سے چنو بھرا تالاب رہتا ہے یہ بازار ہوں سے ہے جاناں ی ہاں کیسے چلے آئی یہ سونے کی دکانیں ہیں ی ہاں تیزاب رہتا ہے ہماری ہر پریشانی انہی لوگوں کے دم سے ہے ہمارے ساتھ یہ جو حلقہ احباب رہتا ہے بڑی مشکل سے آتے ہیں سمجھ ہے وہ ہے وہ چھوڑنا والے دلوں ہے وہ ہے وہ فاصلے لب پر م گر صاحب کردار رہتا ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
More from Munawwar Rana
ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے
Munawwar Rana
1 likes
مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے
Munawwar Rana
5 likes
کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لے اک ذرا دیر کو کمرے ہے وہ ہے وہ اندھیرا کر لے اب مجھے پار اتر جانے دے ایسا کر لے ور لگ جو آئی سمجھ ہے وہ ہے وہ تری دریا کر لے خود ب خود راستہ دے دےگا یہ طوفان مجھے تجھ کو پانے کا ا گر دل یہ ارادہ کر لے آج کا کام تجھے آج ہی کرنا ہوگا کل جو کرنا ہے تو پھروں آج تقاضا کر لے اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید لگ کر کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے گر کبھی رونا ہی پڑ جائے تو اتنا رونا آ کے برسات تری سامنے توبہ کر لے مدتوں بعد حقیقت آئےگا ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں سے اے دل کسی امید کو زندہ کر لے ہم سفر لیلیٰ بھی ہوں گی ہے وہ ہے وہ تبھی جاؤں گا مجھ پہ جتنے بھی ستم کرنے ہوں صحرا کر لے
Munawwar Rana
4 likes
چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے
Munawwar Rana
5 likes
بڑھوا ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی موت کا آنا تو طے ہے موت آوےگی عشق دل م گر آپ کے آنے سے تھوڑی زندگی بڑھ جائے گی اتنی چاہت سے لگ دیکھا کیجیے محفل ہے وہ ہے وہ آپ شہر والوں سے ہماری دشمنی بڑھ جائے گی آپ کے ہنسنے سے خطرہ اور بھی بڑھ جائےگا ا سے طرح تو اور آنکھوں کی نمی بڑھ جائے گی بے وفائی کھیل کا حصہ ہے جانے دے اسے تذکرہ ا سے سے لگ کر شرمندگی بڑھ جائے گی
Munawwar Rana
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Munawwar Rana.
Similar Moods
More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.







