ghazalKuch Alfaaz

kab thahrega dard ai dil kab raat basar hogi sunte the vo aenge sunte the sahar hogi kab jaan lahu hogi kab ashk guhar hoga kis din tiri shunvai ai dida-e-tar hogi kab mahkegi fasl-e-gul kab bahkega mai-khana kab subh-e-sukhan hogi kab sham-e-nazar hogi vaaiz hai na zahid hai naseh hai na qatil hai ab shahr men yaron ki kis tarah basar hogi kab tak abhi rah dekhen ai qamat-e-janana kab hashr muayyan hai tujh ko to khabar hogi kab thahrega dard ai dil kab raat basar hogi sunte the wo aaenge sunte the sahar hogi kab jaan lahu hogi kab ashk guhar hoga kis din teri shunwai ai dida-e-tar hogi kab mahkegi fasl-e-gul kab bahkega mai-khana kab subh-e-sukhan hogi kab sham-e-nazar hogi waiz hai na zahid hai naseh hai na qatil hai ab shahr mein yaron ki kis tarah basar hogi kab tak abhi rah dekhen ai qamat-e-jaanana kab hashr muayyan hai tujh ko to khabar hogi

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

دل ہے وہ ہے وہ اب یوں تری بھولے ہوئے غم آتے ہیں چنو بچھڑے ہوئے کعبے ہے وہ ہے وہ صنم آتے ہیں اک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن مری منزل کی طرف تری قدم آتے ہیں رقص مے تیز کروں ساز کی لے تیز کروں سو میخا لگ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ حقیقت تو جب آتے ہیں مائل ب کرم آتے ہیں اور کچھ دیر لگ گزرے شب فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے حقیقت یاد بھی کم آتے ہیں

Faiz Ahmad Faiz

5 likes

ہر حقیقت لذت صدخمار ہوں جائے کافروں کی نماز ہوں جائے دل رہین نیاز ہوں جائے بےکسی کارساز ہوں جائے منت چارہ ساز کون کرے درد جب جان نواز ہوں جائے عشق دل ہے وہ ہے وہ رہے تو رسوا ہوں لب پہ آئی تو راز ہوں جائے لطف کا انتظار کرتا ہوں جور تا حد ناز ہوں جائے عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض کاش افشا راز ہوں جائے

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام تہذیب ہے تمہارے بام پر آنے کا نام دوستو اس کا چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستاں کی بات درماندہ ہے نہ مے خانے کا نام پھروں نظر ہے وہ ہے وہ پھول مہکے دل ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلیں پھروں تصور نے لیا اس کا بزم ہے وہ ہے وہ جانے کا نام دل بری ٹھہرا زبان خلق کھلواتے کا نام اب نہیں لیتے پری رو زلف بکھرانے کا نام اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرار محبوبی نہیں ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام محاسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے رند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن جاناں کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام فیض ان کو ہے تقاضا وفا ہم سے جنہیں آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانہ کا نام

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.