ghazalKuch Alfaaz

kabhi kisi ko mukammal jahan nahin milta kahin zamin kahin asman nahin milta tamam shahr men aisa nahin khulus na ho jahan umiid ho is ki vahan nahin milta kahan charaghh jalaen kahan gulab rakhen chhaten to milti hain lekin makan nahin milta ye kya azaab hai sab apne aap men gum hain zaban mili hai magar ham-zaban nahin milta charaghh jalte hi binai bujhne lagti hai khud apne ghar men hi ghar ka nishan nahin milta kabhi kisi ko mukammal jahan nahin milta kahin zamin kahin aasman nahin milta tamam shahr mein aisa nahin khulus na ho jahan umid ho is ki wahan nahin milta kahan charagh jalaen kahan gulab rakhen chhaten to milti hain lekin makan nahin milta ye kya azab hai sab apne aap mein gum hain zaban mili hai magar ham-zaban nahin milta charagh jalte hi binai bujhne lagti hai khud apne ghar mein hi ghar ka nishan nahin milta

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Nida Fazli

جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے

Nida Fazli

1 likes

کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف ک ہاں ہے شہر ہے وہ ہے وہ اب کوئی زندگی کی طرف سبھی کی دی ہے وہ ہے وہ غائب تھا جو حقیقت حاضر تھا کسی نے رک کے نہیں دیکھا آدمی کی طرف تمام شہر کی شمعیں اسی سے روشن تھیں کبھی اجالا بے حد تھا کسی گلی کی طرف کہی کی بھوک ہوں ہر کھیت ا سے کا اپنا ہے کہی کی پیا سے ہوں جائے گی حقیقت ن گرا کی طرف لگ نکلے خیر سے علامہ قول سے باہر یکتا ٹوٹ گئے جب چلے خو گرا کی طرف

Nida Fazli

0 likes

راکش سے تھا لگ خدا تھا پہلے آدمی کتنا بڑا تھا پہلے آ سماں کھیت سمندر سب یشودا خون کاغذ پہ اگا تھا پہلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مقتول جو قاتل لگ بنا ہاتھ میرا بھی اٹھا تھا پہلے اب کسی سے بھی شکایت لگ رہی جانے ک سے ک سے سے گلہ تھا پہلے شہر تو بعد ہے وہ ہے وہ ویران ہوا میرا گھر خاک ہوا تھا پہلے

Nida Fazli

2 likes

گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو

Nida Fazli

1 likes

ہر اک رستہ اندھیروں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے محبت اک ضروری حادثہ ہے گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیں زمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے نکل آئی کدھر منزل کی دھن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں تو راستہ ہی راستہ ہے دعا کے ہاتھ پتھر ہوں گئے ہیں خدا ہر ذہن ہے وہ ہے وہ ٹوٹا پڑا ہے تمہارا غضب شاید الگ ہوں مجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے

Nida Fazli

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.