کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف ک ہاں ہے شہر ہے وہ ہے وہ اب کوئی زندگی کی طرف سبھی کی دی ہے وہ ہے وہ غائب تھا جو حقیقت حاضر تھا کسی نے رک کے نہیں دیکھا آدمی کی طرف تمام شہر کی شمعیں اسی سے روشن تھیں کبھی اجالا بے حد تھا کسی گلی کی طرف کہی کی بھوک ہوں ہر کھیت ا سے کا اپنا ہے کہی کی پیا سے ہوں جائے گی حقیقت ن گرا کی طرف لگ نکلے خیر سے علامہ قول سے باہر یکتا ٹوٹ گئے جب چلے خو گرا کی طرف
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں
Nida Fazli
0 likes
جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے
Nida Fazli
1 likes
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی صحیح جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی صحیح ہم ک ہاں کے دیوتا ہیں بےوفا حقیقت ہیں تو کیا گھر ہے وہ ہے وہ کوئی گھر کی ظفر ہے چلو یوں ہی صحیح حقیقت نہیں تو کوئی تو ہوگا کہی ا سے کی طرح جسم ہے وہ ہے وہ جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی صحیح میلے ہوں جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی صحیح بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنا آدمی ہے وہ ہے وہ آدمیت ہے چلو یوں ہی صحیح جیسی ہونی چاہیے تھی ویسی تو دنیا نہیں دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی صحیح
Nida Fazli
4 likes
سفر کو جب بھی کسی داستان ہے وہ ہے وہ رکھنا قدم یقین ہے وہ ہے وہ منزل گمان ہے وہ ہے وہ رکھنا جو ساتھ ہے وہی گھر کا نصیب ہے لیکن جو کھو گیا تو ہے اسے بھی مکان ہے وہ ہے وہ رکھنا جو دیکھتی ہیں نگاہیں وہی نہیں سب کچھ یہ احتیاط بھی اپنے نقص ہے وہ ہے وہ رکھا حقیقت ایک خواب جو چہرہ کبھی نہیں بنتا بنا کے چاند اسے آسمان ہے وہ ہے وہ رکھنا چمکتے چاند ستاروں کا کیا بھروسا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی دھول بھی اپنی اڑان ہے وہ ہے وہ رکھنا
Nida Fazli
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







