کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا
Related Ghazal
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورہ کا چلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں ہے حقیقت جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
Jaun Elia
38 likes
پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی
Kumar Vishwas
53 likes
ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے
Afkar Alvi
38 likes
سب نے دل سے اسے اتارا تھا حقیقت مری کب تھی اس کا کو مارا تھا پیروں ہے وہ ہے وہ گرکے جیتا تھا ج سے کو اس کا کا کو پانے ہے وہ ہے وہ خود کو ہارا تھا تری مری ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو سب کچھ ایک ٹائم تھا سب ہمارا تھا ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ دل جلے ہے اب جس کا چہرہ نہیں بے شرط تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے حقیقت کھویا جو میرا نہیں تھا جاناں نے حقیقت کھویا جو تمہارا تھا جیت سکتا تھا ا سے سے ہے وہ ہے وہ دھڑکنا پر بڑے حوصلے سے ہارا تھا
Himanshi babra KATIB
43 likes
خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے
Ali Zaryoun
48 likes
More from Amjad Islam Amjad
न आसमाँ से न दुश्मन के ज़ोर ओ ज़र से हुआ ये मोजज़ा तो मिरे दस्त-ए-बे-हुनर से हुआ क़दम उठा है तो पाँव तले ज़मीं ही नहीं सफ़र का रंज हमें ख़्वाहिश-ए-सफ़र से हुआ मैं भीग भीग गया आरज़ू की बारिश में वो अक्स अक्स में तक़्सीम चश्म-ए-तर से हुआ सियाही शब की न चेहरों पे आ गई हो कहीं सहर का ख़ौफ़ हमें आईनों के डर से हुआ कोई चले तो ज़मीं साथ साथ चलती है ये राज़ हम पे अयाँ गर्द-ए-रहगुज़र से हुआ तिरे बदन की महक ही न थी तो क्या रुकते गुज़र हमारा कई बार यूँँ तो घर से हुआ कहाँ पे सोए थे 'अमजद' कहाँ खुलीं आँखें गुमाँ क़फ़स का हमें अपने बाम-ओ-दर से हुआ
Amjad Islam Amjad
1 likes
یاد کے صحرا ہے وہ ہے وہ کچھ تو زندگی آئی نظر سوچتا ہوں اب بنا لوں ریت سے ہی کوئی گھر ک سے دودمان یادیں ابھر آئی ہیں تری نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور سمے کے اندھے کوئیں ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے زندگی اے مری حسن تخیل بام سے نیچے اتر تو اسیر آبرو شیوہ پندار حسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرفتار نگاہ زندگی مختصر ضبط کے قریے ہے وہ ہے وہ امجد دیکھیے کیسے کٹے سوچ کی سونی سڑک پر یاد کا لمبا سفر
Amjad Islam Amjad
0 likes
پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
اگرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا لکھا دیوار کا پڑھتا نہیں تھا کچھ ایسی برف تھی ا سے کی نظر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزرنے کے لیے رستہ نہیں تھا تمہیں نے کون سی اچھائی کی ہے چلو مانا کہ ہے وہ ہے وہ اچھا نہیں تھا کھلی آنکھوں سے ساری عمر دیکھا اک ایسا خواب جو اپنا نہیں تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ تھا اکیلا کسی نے بھی مجھے دیکھا نہیں تھا سحر کے سمے کیسے چھوڑ جاتا تمہاری یاد تھی سپنا نہیں تھا کھڑی تھی رات کھڑکی کے سرہانے دریچے ہے وہ ہے وہ حقیقت چاند اترا نہیں تھا دلوں ہے وہ ہے وہ گرنے والے خوشی چنتا کہی اک ہائل ایسا نہیں تھا کچھ ایسی دھوپ تھی ان کے سروں پر خدا چنو غریبوں کا نہیں تھا ابھی حرفوں ہے وہ ہے وہ رنگ آتے ک ہاں سے ابھی ہے وہ ہے وہ نے اسے لکھا نہیں تھا تھی پوری شکل ا سے کی یاد مجھ کو م گر ہے وہ ہے وہ نے اسے دیکھا نہیں تھا برہ لگ خواب تھے سورج کے نیچے کسی امید کا پردہ نہیں تھا ہے امجد آج تک حقیقت بے وجہ دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ جو ا سے سمے بھی میرا نہی
Amjad Islam Amjad
0 likes
اوروں کا تھا نقص تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بہر غم حوادث ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس کا سے اپنی بات کا مانگے اگر جواب لہروں کا پیچ و خم حقیقت کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس کا سے کبھی سامنا رہے گلشن ہے وہ ہے وہ تھے تو رونق رنگ چمن بنے جنگل ہے وہ ہے وہ ہم امانت باد صبا رہے سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے امجد در نگار پہ دستک ہی دیجیے اس کا کا بے کراں سکوت ہے وہ ہے وہ کچھ غلغلا رہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.
Similar Moods
More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.







