kal apne shahr ki bas men savar hote hue vo dekhta tha mujhe ashk-bar hote hue parinde aae to gumbad pe baith jaenge nahin shajar ki zarurat mazar hote hue hai ek aur bhi surat raza-o-kufr ke biich ki shak bhi dil men rahe e'tibar hote hue mire vajud se dhaga nikal gaya hai dost main be-shumar hua huun shumar hote hue dubo raha hai mujhe dubne ka khauf ab tak bhanvar ke biich huun dariya ke paar hote hue vo qaid-khana ghhanimat tha mujh se be-ghar ko ye zehn hi men na aaya farar hote hue kal apne shahr ki bas mein sawar hote hue wo dekhta tha mujhe ashk-bar hote hue parinde aae to gumbad pe baith jaenge nahin shajar ki zarurat mazar hote hue hai ek aur bhi surat raza-o-kufr ke bich ki shak bhi dil mein rahe e'tibar hote hue mere wajud se dhaga nikal gaya hai dost main be-shumar hua hun shumar hote hue dubo raha hai mujhe dubne ka khauf ab tak bhanwar ke bich hun dariya ke par hote hue wo qaid-khana ghanimat tha mujh se be-ghar ko ye zehn hi mein na aaya farar hote hue
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
More from Afzal Khan
مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی ہے وہ ہے وہ اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہی جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے ا سے راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تو تھا گھر ہے وہ ہے وہ رہ رہ کر یوںہی بازار آئی ہیں خریداری نہیں کرنی غزل کو کم نگا ہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں ہے وہ ہے وہ شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو قی سے نے صحرا کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ میرا گھر ہے ا سے کی چار دیواری نہیں کرنی
Afzal Khan
0 likes
تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا
Afzal Khan
0 likes
آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ
Afzal Khan
0 likes
آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ
Afzal Khan
0 likes
نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھول گیا تو چھوڑتے ہوئے سگریٹ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں ہے وہ ہے وہ پینے لگے غم حیات سے منا موڑتے ہوئے سگریٹ مشابہ کتنے ہیں ہم سوختہ جبینوں سے کسی ستون سے سر پھوڑتے ہوئے سگریٹ کل اک ملنگ کو کوڑے کے ڈھیر پر لا کر نشے نے توڑ دیا جوڑتے ہوئے سگریٹ ہمارے سان سے بھی لے کر لگ بچ سکے افضل یہ خاک دان ہے وہ ہے وہ دم توڑتے ہوئے سگریٹ
Afzal Khan
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Khan's ghazal.







