ghazalKuch Alfaaz

کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارا لگ تھا شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا لگ تھا شہرہ عالم اسے یمن محبت نے کیا ور لگ مجنوں ایک خاک افتادہ ویرا لگ تھا منزل ا سے مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشین اب حقیقت دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خا لگ تھا اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیں وا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزہ بیگا لگ تھا روز و شب گزرے ہے پیچ و تاب ہے وہ ہے وہ رہتے تجھے اے برائے زلف پریشاں ک سے کی زلف کا تو شا لگ تھا یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جا باش یا در باز بیابان یا ڈبونی تھا ج سے کو دیکھا ہم نے ا سے وحشت کدے ہے وہ ہے وہ دہر کے یا سڑی یا قابل ضبطی یا مجنون یا دیوا لگ تھا بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا درماندہ رہا ہاتھ ا سے کا جو مری لہو ہے وہ ہے وہ گستاخا لگ تھا غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہ یہ لگ سمجھا حقیقت کہ زینو ہے وہ ہے وہ بھی کچھ تھا یا لگ تھا صبح ہوتے حقیقت بنا گوش آج یاد آیا مجھے جو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دا لگ تھا شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوست شمع کا جلوہ غبار دیدہ پ

Related Ghazal

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

خون آنسو بن گیا تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر جانے کے بعد آپ آئی تو م گر طوفاں گزر جانے کے بعد چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد زخم جو جاناں نے دیا حقیقت ا سے لیے رکھا ہرا زندگی ہے وہ ہے وہ کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو ہم بے حد مصروف ہوں جاتے ہیں گھر جانے کے بعد زندگی کے نام پر ہم عمر بھر جیتے رہے زندگی کو ہم نے پایا بھی تو مر جانے کے بعد

Azm Shakri

12 likes

More from Meer Taqi Meer

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

خط لکھ کے کوئی سادہ لگ ا سے کو ملول ہوں ہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہوں چا ہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیں کیسے ہی بھاری ہوں مری آگے تو پھول ہوں سرمہ جو نور بخشی ہے آنکھوں کو خلق کی شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہوں جاویں نثار ہونے کو ہم ک سے بسات پر اک نیم جاں رکھیں ہیں سو حقیقت جب قبول ہوں ہم ان دنوں ہے وہ ہے وہ لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام ور لگ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہوں دل لے کے افلاطون دہلی کے کب کا پچا گئے اب ان سے کھائی پی ہوئی اجازت کیا وصول ہوں ناکام ا سے لیے ہوں کہ چاہو ہوں سب کچھ آج جاناں بھی تو میر صاحب و قبلہ اجول ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Meer Taqi Meer

1 likes

دیکھےگا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ تری مو کا پریشان رہے گا وعدہ تو کیا ا سے سے دم صبح کا لیکن ا سے دم تئیں مجھ ہے وہ ہے وہ بھی ا گر جان رہے گا منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا چھوٹوں کہی ایزا سے لگا ایک ہی جلاد تا حشر مری سر پہ یہ احسان رہے گا چمٹے رہیں گے لان ہے وہ ہے وہ سر و تیغ محشر تئیں خالی لگ یہ میدان رہے گا جانے کا نہیں شور سخن کا مری ہرگز تا حشر ج ہاں ہے وہ ہے وہ میرا دیوان رہے گا دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میر پشیمان رہے گا

Meer Taqi Meer

0 likes

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.