خون آنسو بن گیا تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر جانے کے بعد آپ آئی تو م گر طوفاں گزر جانے کے بعد چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد زخم جو جاناں نے دیا حقیقت ا سے لیے رکھا ہرا زندگی ہے وہ ہے وہ کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو ہم بے حد مصروف ہوں جاتے ہیں گھر جانے کے بعد زندگی کے نام پر ہم عمر بھر جیتے رہے زندگی کو ہم نے پایا بھی تو مر جانے کے بعد
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Azm Shakri
جتنا تیرا حکم تھا اتنی سنواری زندگی اپنی مرضی سے ک ہاں ہم نے گزاری زندگی مری اندر اک نیا غم روز رکھ جاتا ہے کون رفتہ رفتہ ہوں رہی ہے اور بھاری زندگی روح کی تسکین کے سارے دریچے کھل گئے درد کے پہلو ہے وہ ہے وہ جب آئی ہماری زندگی صرف تھی خا لگ بدوشی یا محبت کا جنوں ہجرتیں کرتا رہا اک بے وجہ ساری زندگی ایک لفظ کن کہا آباد سناٹے ہوئے آسمانوں سے زمینوں پر اتاری زندگی
Azm Shakri
9 likes
یہ مت کہو کہ بھیڑ ہے وہ ہے وہ تنہا کھڑا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں کے جنگلوں ہے وہ ہے وہ مجھے مت کروں تلاش دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بے رکھ کے ساتھ لگ منا پھیر کے گزر اے صاحب جمال ترا آئی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بار بار مجھ کو صدائیں لگ دیجیے اب حقیقت نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بےوفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے خواب لیے پھروں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Azm Shakri
4 likes
دل ہے وہ ہے وہ حسرت کوئی بچی ہی نہیں آگ ایسی لگی بجھی ہی نہیں ا سے نے جب خود کو بے نقاب کیا پھروں کسی کی نظر اٹھی ہی نہیں جیسا ا سے بار کھل کے روئے ہم ایسی بارش کبھی ہوئی ہی نہیں زندگی کو گلے لگاتے کیا زندگی عمر بھر ملی ہی نہیں منتظر کب سے چاند چھت پر ہے کوئی کھڑکی ابھی کھلی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے اپنی زندگی سمجھا سچ تو یہ ہے حقیقت مری تھی ہی نہیں
Azm Shakri
4 likes
زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے چنو کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے ج سے جگہ پہلے کے زخموں کے نشان ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے سمے رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے بول کر تعریف ہے وہ ہے وہ کچھ لفظ ا سے کی شخصیت اپنی نکھاری جا رہی ہے دھوپ کے دستانے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پہن کر برف کی چادر اتاری جا رہی ہے
Azm Shakri
6 likes
لاکھوں صدمے ڈھیر غم پھروں بھی نہیں ہیں آنکھیں نمہ اک مدت سے روئے نہیں کیا پتھر کے ہوں گئے ہم یوں پلکوں پہ ہیں آنسو چنو پھولوں پر شبنم خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت آ جاتے ہیں اتنا تو رکھتے ہیں بھرم ہم ا سے بستی ہے وہ ہے وہ ہیں ج ہاں دھوپ زیادہ سائے کم اب زخموں ہے وہ ہے وہ تاب نہیں اب کیوں لائے ہوں مرہم
Azm Shakri
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Azm Shakri.
Similar Moods
More moods that pair well with Azm Shakri's ghazal.







