یہ مت کہو کہ بھیڑ ہے وہ ہے وہ تنہا کھڑا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں کے جنگلوں ہے وہ ہے وہ مجھے مت کروں تلاش دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بے رکھ کے ساتھ لگ منا پھیر کے گزر اے صاحب جمال ترا آئی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بار بار مجھ کو صدائیں لگ دیجیے اب حقیقت نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بےوفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے خواب لیے پھروں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Azm Shakri
خون آنسو بن گیا تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر جانے کے بعد آپ آئی تو م گر طوفاں گزر جانے کے بعد چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد زخم جو جاناں نے دیا حقیقت ا سے لیے رکھا ہرا زندگی ہے وہ ہے وہ کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو ہم بے حد مصروف ہوں جاتے ہیں گھر جانے کے بعد زندگی کے نام پر ہم عمر بھر جیتے رہے زندگی کو ہم نے پایا بھی تو مر جانے کے بعد
Azm Shakri
12 likes
جتنا تیرا حکم تھا اتنی سنواری زندگی اپنی مرضی سے ک ہاں ہم نے گزاری زندگی مری اندر اک نیا غم روز رکھ جاتا ہے کون رفتہ رفتہ ہوں رہی ہے اور بھاری زندگی روح کی تسکین کے سارے دریچے کھل گئے درد کے پہلو ہے وہ ہے وہ جب آئی ہماری زندگی صرف تھی خا لگ بدوشی یا محبت کا جنوں ہجرتیں کرتا رہا اک بے وجہ ساری زندگی ایک لفظ کن کہا آباد سناٹے ہوئے آسمانوں سے زمینوں پر اتاری زندگی
Azm Shakri
9 likes
دل ہے وہ ہے وہ حسرت کوئی بچی ہی نہیں آگ ایسی لگی بجھی ہی نہیں ا سے نے جب خود کو بے نقاب کیا پھروں کسی کی نظر اٹھی ہی نہیں جیسا ا سے بار کھل کے روئے ہم ایسی بارش کبھی ہوئی ہی نہیں زندگی کو گلے لگاتے کیا زندگی عمر بھر ملی ہی نہیں منتظر کب سے چاند چھت پر ہے کوئی کھڑکی ابھی کھلی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے اپنی زندگی سمجھا سچ تو یہ ہے حقیقت مری تھی ہی نہیں
Azm Shakri
4 likes
لاکھوں صدمے ڈھیر غم پھروں بھی نہیں ہیں آنکھیں نمہ اک مدت سے روئے نہیں کیا پتھر کے ہوں گئے ہم یوں پلکوں پہ ہیں آنسو چنو پھولوں پر شبنم خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت آ جاتے ہیں اتنا تو رکھتے ہیں بھرم ہم ا سے بستی ہے وہ ہے وہ ہیں ج ہاں دھوپ زیادہ سائے کم اب زخموں ہے وہ ہے وہ تاب نہیں اب کیوں لائے ہوں مرہم
Azm Shakri
13 likes
زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے چنو کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے ج سے جگہ پہلے کے زخموں کے نشان ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے سمے رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے بول کر تعریف ہے وہ ہے وہ کچھ لفظ ا سے کی شخصیت اپنی نکھاری جا رہی ہے دھوپ کے دستانے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پہن کر برف کی چادر اتاری جا رہی ہے
Azm Shakri
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Azm Shakri.
Similar Moods
More moods that pair well with Azm Shakri's ghazal.







