زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے چنو کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے ج سے جگہ پہلے کے زخموں کے نشان ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے سمے رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے بول کر تعریف ہے وہ ہے وہ کچھ لفظ ا سے کی شخصیت اپنی نکھاری جا رہی ہے دھوپ کے دستانے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پہن کر برف کی چادر اتاری جا رہی ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Azm Shakri
یہ مت کہو کہ بھیڑ ہے وہ ہے وہ تنہا کھڑا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں کے جنگلوں ہے وہ ہے وہ مجھے مت کروں تلاش دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بے رکھ کے ساتھ لگ منا پھیر کے گزر اے صاحب جمال ترا آئی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوں بار بار مجھ کو صدائیں لگ دیجیے اب حقیقت نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بےوفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے خواب لیے پھروں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Azm Shakri
4 likes
جتنا تیرا حکم تھا اتنی سنواری زندگی اپنی مرضی سے ک ہاں ہم نے گزاری زندگی مری اندر اک نیا غم روز رکھ جاتا ہے کون رفتہ رفتہ ہوں رہی ہے اور بھاری زندگی روح کی تسکین کے سارے دریچے کھل گئے درد کے پہلو ہے وہ ہے وہ جب آئی ہماری زندگی صرف تھی خا لگ بدوشی یا محبت کا جنوں ہجرتیں کرتا رہا اک بے وجہ ساری زندگی ایک لفظ کن کہا آباد سناٹے ہوئے آسمانوں سے زمینوں پر اتاری زندگی
Azm Shakri
9 likes
دل ہے وہ ہے وہ حسرت کوئی بچی ہی نہیں آگ ایسی لگی بجھی ہی نہیں ا سے نے جب خود کو بے نقاب کیا پھروں کسی کی نظر اٹھی ہی نہیں جیسا ا سے بار کھل کے روئے ہم ایسی بارش کبھی ہوئی ہی نہیں زندگی کو گلے لگاتے کیا زندگی عمر بھر ملی ہی نہیں منتظر کب سے چاند چھت پر ہے کوئی کھڑکی ابھی کھلی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے اپنی زندگی سمجھا سچ تو یہ ہے حقیقت مری تھی ہی نہیں
Azm Shakri
4 likes
لاکھوں صدمے ڈھیر غم پھروں بھی نہیں ہیں آنکھیں نمہ اک مدت سے روئے نہیں کیا پتھر کے ہوں گئے ہم یوں پلکوں پہ ہیں آنسو چنو پھولوں پر شبنم خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت آ جاتے ہیں اتنا تو رکھتے ہیں بھرم ہم ا سے بستی ہے وہ ہے وہ ہیں ج ہاں دھوپ زیادہ سائے کم اب زخموں ہے وہ ہے وہ تاب نہیں اب کیوں لائے ہوں مرہم
Azm Shakri
13 likes
چاہتا یہ ہوں کہ بےنام و نشاں ہوں جاؤں شام کی طرح جلوں اور دھواں ہوں جاؤں پہلے دہلیز پہ روشن کروں آنکھوں کے چراغ اور پھروں خود کسی پردے ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاؤں توڑ کر پھینک دوں یہ فرقہ پرستی کے محل اور پیشانی پہ سجدے کا نشان ہوں جاؤں دل سے پھروں درد مہکنے کی صدائیں اٹھیں کاش ایسا ہوں ہے وہ ہے وہ تیری رگ جاں ہوں جاؤں ب سے تری ذکر ہے وہ ہے وہ کٹ جائیں مری روز و شب نور کی شاخ پہ چڑیوں کی زبان ہوں جاؤں خاک ج سے کوچے کی ملتے ہیں فرشتے آ کر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی خاک کے ذروں ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاؤں مری آوارہ مزاجی کو سکون مل جائے درد بن کر تری سینے ہے وہ ہے وہ رواں ہوں جاؤں
Azm Shakri
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Azm Shakri.
Similar Moods
More moods that pair well with Azm Shakri's ghazal.







