کر لوں گا جمع دولت و زر ا سے کے بعد کیا لے لوں گا شاندار سا گھر ا سے کے بعد کیا مے کی طلب جو ہوں گی تو بن جاؤں گا ہے وہ ہے وہ رند کر لوں گا مے کدوں کا سفر ا سے کے بعد کیا ہوگا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا کر لوں گا گیسوؤں ہے وہ ہے وہ سحر ا سے کے بعد کیا شعر و سخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں دنیا ہے وہ ہے وہ ہوگا نام م گر ا سے کے بعد کیا موج آوےگی عشق دل تو سارے ج ہاں کی کروں گا سیر واپ سے وہی پرانا ن گر ا سے کے بعد کیا اک روز موت آب و زیست کا در کھٹ کھٹائےگی بجھ جائےگا چراغ قمر ا سے کے بعد کیا اٹھی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں پھروں ا سے کے بعد ک سے کو خبر ا سے کے بعد کیا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
More from Qamar Jalalabadi
چھوٹی سی بے رکھ پہ شکایت کی بات ہے اور حقیقت بھی ا سے لیے کہ محبت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ آئی ہوں کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ مل کے بھی ہم کیوں لگ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ رہتے ہوں ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ دیتے ہیں دل جاناں بھی لاؤ دل کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے
Qamar Jalalabadi
0 likes
یا رب تری کرم سے یہ سودا کریںگے ہم دنیا ہے وہ ہے وہ پی کے خلد ہے وہ ہے وہ توبہ کریںگے ہم یوں رسم عشق و حسن کو رسوا کریںگے ہم جاناں منتظر رہوگے لگ آیا کریںگے ہم آئینے ہے وہ ہے وہ خود اپنا تماشا کریںگے ہم یوں بھی شب فراق گزارا کریںگے ہم جب تک لگ آوگے نظر ایسا کریںگے ہم ہر روز اک خدا کو تراشا کریںگے ہم تجھ کو بٹھا کے دور سے دیکھا کریںگے ہم یوں بھی تری غرور سے کھیلا کریںگے ہم جا تجھ سے بے نیاز ہوئے بھولے تیرا ذکر تو چاہےگا تو تیری تمنا کریںگے ہم
Qamar Jalalabadi
0 likes
اک حسین لا جواب دیکھا ہے رات کو آفتاب دیکھا ہے گورا مکھڑا یہ سرخ گال تری چاندنی ہے وہ ہے وہ گلاب دیکھا ہے نرگسی آنکھ زلف شب رنگی بادلوں کا جواب دیکھا ہے جھومتے جام سا چھلکتا بدن ایک جام شراب دیکھا ہے ہم تو مل کر لگ مل سکے جاناں کو جاناں کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے
Qamar Jalalabadi
0 likes
حقیقت ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا مجھ سے پہلے مری جذبات سمجھنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر رو دیا کیوں مری حالات سمجھنے والا جو لگ سمجھے تیری منزل حقیقت یوںہی چلتا رہا رک گیا تو تری مقامات سمجھنے والا جو لگ سمجھے حقیقت بناتے رہے لاکھوں باتیں ہوا خاموش تری بات سمجھنے والا راز تقدیر پہ کیا روشنی ڈالے گا کوئی خود سوالی ہے سوالات سمجھنے والا
Qamar Jalalabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalabadi's ghazal.







