ghazalKuch Alfaaz

یا رب تری کرم سے یہ سودا کریںگے ہم دنیا ہے وہ ہے وہ پی کے خلد ہے وہ ہے وہ توبہ کریںگے ہم یوں رسم عشق و حسن کو رسوا کریںگے ہم جاناں منتظر رہوگے لگ آیا کریںگے ہم آئینے ہے وہ ہے وہ خود اپنا تماشا کریںگے ہم یوں بھی شب فراق گزارا کریںگے ہم جب تک لگ آوگے نظر ایسا کریںگے ہم ہر روز اک خدا کو تراشا کریںگے ہم تجھ کو بٹھا کے دور سے دیکھا کریںگے ہم یوں بھی تری غرور سے کھیلا کریںگے ہم جا تجھ سے بے نیاز ہوئے بھولے تیرا ذکر تو چاہےگا تو تیری تمنا کریںگے ہم

Related Ghazal

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے

Afkar Alvi

38 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے

Kushal Dauneria

35 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Qamar Jalalabadi

چھوٹی سی بے رکھ پہ شکایت کی بات ہے اور حقیقت بھی ا سے لیے کہ محبت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ آئی ہوں کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ مل کے بھی ہم کیوں لگ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ رہتے ہوں ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ دیتے ہیں دل جاناں بھی لاؤ دل کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے

Qamar Jalalabadi

0 likes

اک حسین لا جواب دیکھا ہے رات کو آفتاب دیکھا ہے گورا مکھڑا یہ سرخ گال تری چاندنی ہے وہ ہے وہ گلاب دیکھا ہے نرگسی آنکھ زلف شب رنگی بادلوں کا جواب دیکھا ہے جھومتے جام سا چھلکتا بدن ایک جام شراب دیکھا ہے ہم تو مل کر لگ مل سکے جاناں کو جاناں کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے

Qamar Jalalabadi

0 likes

حقیقت ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا مجھ سے پہلے مری جذبات سمجھنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر رو دیا کیوں مری حالات سمجھنے والا جو لگ سمجھے تیری منزل حقیقت یوںہی چلتا رہا رک گیا تو تری مقامات سمجھنے والا جو لگ سمجھے حقیقت بناتے رہے لاکھوں باتیں ہوا خاموش تری بات سمجھنے والا راز تقدیر پہ کیا روشنی ڈالے گا کوئی خود سوالی ہے سوالات سمجھنے والا

Qamar Jalalabadi

0 likes

کر لوں گا جمع دولت و زر ا سے کے بعد کیا لے لوں گا شاندار سا گھر ا سے کے بعد کیا مے کی طلب جو ہوں گی تو بن جاؤں گا ہے وہ ہے وہ رند کر لوں گا مے کدوں کا سفر ا سے کے بعد کیا ہوگا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا کر لوں گا گیسوؤں ہے وہ ہے وہ سحر ا سے کے بعد کیا شعر و سخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں دنیا ہے وہ ہے وہ ہوگا نام م گر ا سے کے بعد کیا موج آوےگی عشق دل تو سارے ج ہاں کی کروں گا سیر واپ سے وہی پرانا ن گر ا سے کے بعد کیا اک روز موت آب و زیست کا در کھٹ کھٹائےگی بجھ جائےگا چراغ قمر ا سے کے بعد کیا اٹھی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں پھروں ا سے کے بعد ک سے کو خبر ا سے کے بعد کیا

Qamar Jalalabadi

23 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qamar Jalalabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qamar Jalalabadi's ghazal.