چھوٹی سی بے رکھ پہ شکایت کی بات ہے اور حقیقت بھی ا سے لیے کہ محبت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ آئی ہوں کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ مل کے بھی ہم کیوں لگ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ رہتے ہوں ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ دیتے ہیں دل جاناں بھی لاؤ دل کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Qamar Jalalabadi
یا رب تری کرم سے یہ سودا کریںگے ہم دنیا ہے وہ ہے وہ پی کے خلد ہے وہ ہے وہ توبہ کریںگے ہم یوں رسم عشق و حسن کو رسوا کریںگے ہم جاناں منتظر رہوگے لگ آیا کریںگے ہم آئینے ہے وہ ہے وہ خود اپنا تماشا کریںگے ہم یوں بھی شب فراق گزارا کریںگے ہم جب تک لگ آوگے نظر ایسا کریںگے ہم ہر روز اک خدا کو تراشا کریںگے ہم تجھ کو بٹھا کے دور سے دیکھا کریںگے ہم یوں بھی تری غرور سے کھیلا کریںگے ہم جا تجھ سے بے نیاز ہوئے بھولے تیرا ذکر تو چاہےگا تو تیری تمنا کریںگے ہم
Qamar Jalalabadi
0 likes
اک حسین لا جواب دیکھا ہے رات کو آفتاب دیکھا ہے گورا مکھڑا یہ سرخ گال تری چاندنی ہے وہ ہے وہ گلاب دیکھا ہے نرگسی آنکھ زلف شب رنگی بادلوں کا جواب دیکھا ہے جھومتے جام سا چھلکتا بدن ایک جام شراب دیکھا ہے ہم تو مل کر لگ مل سکے جاناں کو جاناں کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے
Qamar Jalalabadi
0 likes
حقیقت ستم گر ہے خیالات سمجھنے والا مجھ سے پہلے مری جذبات سمجھنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے رکھا ہے ہمیشہ ہی تبسم لب پر رو دیا کیوں مری حالات سمجھنے والا جو لگ سمجھے تیری منزل حقیقت یوںہی چلتا رہا رک گیا تو تری مقامات سمجھنے والا جو لگ سمجھے حقیقت بناتے رہے لاکھوں باتیں ہوا خاموش تری بات سمجھنے والا راز تقدیر پہ کیا روشنی ڈالے گا کوئی خود سوالی ہے سوالات سمجھنے والا
Qamar Jalalabadi
0 likes
کر لوں گا جمع دولت و زر ا سے کے بعد کیا لے لوں گا شاندار سا گھر ا سے کے بعد کیا مے کی طلب جو ہوں گی تو بن جاؤں گا ہے وہ ہے وہ رند کر لوں گا مے کدوں کا سفر ا سے کے بعد کیا ہوگا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا کر لوں گا گیسوؤں ہے وہ ہے وہ سحر ا سے کے بعد کیا شعر و سخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں دنیا ہے وہ ہے وہ ہوگا نام م گر ا سے کے بعد کیا موج آوےگی عشق دل تو سارے ج ہاں کی کروں گا سیر واپ سے وہی پرانا ن گر ا سے کے بعد کیا اک روز موت آب و زیست کا در کھٹ کھٹائےگی بجھ جائےگا چراغ قمر ا سے کے بعد کیا اٹھی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں پھروں ا سے کے بعد ک سے کو خبر ا سے کے بعد کیا
Qamar Jalalabadi
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalabadi's ghazal.







