خیال سا ہے کہ تو سامنے کھڑا تھا ابھی غنودگی ہے وہ ہے وہ ہوں شاید ہے وہ ہے وہ سو گیا تو تھا ابھی پھروں ا سے کی شکل خیالوں ہے وہ ہے وہ صاف بننے لگی یہ مسئلہ تو وہی ہے جو حل ہوا تھا ابھی سنا ہے پھروں کوئی مجھ کو بچانا چاہتا ہے کسی طرح تو میرا فیصلہ ہوا تھا ابھی یہیں کھڑا تھا حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کتنے خواب لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کا نیا گھر دکھا رہا تھا ابھی اسی کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا تو کچھ لگ تھا معلوم اسی کے بارے ہے وہ ہے وہ اتنا کہا سنا تھا ابھی
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Shariq Kaifi
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
سیانے تھے م گر اتنے نہیں ہم خموشی کی زبان سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑےگی حقیقت کیا گنگنائے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت ا سے کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم چیزیں کا تری صدمہ تو ہوگا م گر ا سے خوف کو جیتے نہیں ہم تری رہتے تو کیا ہوتے کسی کے تجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہ ا گر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم کبھی اپائے تو ا سے پہلو سے کوئی کسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیں کسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم
Shariq Kaifi
4 likes
سونا آنگن نیند ہے وہ ہے وہ ایسے چونک اٹھا ہے سوتے ہے وہ ہے وہ بھی چنو کوئی سسکی لیتا ہے گھر ہے وہ ہے وہ تو ا سے ماحول کا ہے وہ ہے وہ عا گرا ہوں لیکن بازاروں کی ویرانی سے دم پلانا ہے مدت سے ہے وہ ہے وہ سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوں جیب اور آنکھ کے خالی پن ہے وہ ہے وہ کیا رشتہ ہے اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئی ہیں گھر واپ سے جانا بھی تماشا سا لگتا ہے لوگ تو اپنی جانب سے کچھ جوڑ ہی لیںگے اتنی ادھوری باتیں ہیں حقیقت کیوں کرتا ہے اپنی کیا ان رستوں کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچوں ان کا سفر تو مری عمر سے بھی لمبا ہے ا سے کی آنکھوں سے اوجھل مت ہونا شریک پیچھا کرنے والا بے حد تنہا ہوتا ہے
Shariq Kaifi
5 likes
سامنے تری ہوں گھبرایا ہوا بے زبان ہونے پر با ہوں ہوا لاکھ اب منظر ہوں دھندلایا ہوا یاد ہے مجھ کو نظر آیا ہوا یہ بھی کہنا تھا بتا کر راستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ہوں تیرا بھٹکایا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اک آسیب اک بے چین روح بے وضو ہاتھوں کا دفنایا ہوا آ گیا تو پھروں مشورہ دینے مجھے خیمہ دشمن کا سمجھایا ہوا پھروں حقیقت منزل لطف کیا دیتی مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں پہنچا تھا جھنجھلایا ہوا تیری گلیوں سے گزر آساں نہیں آج بھی چلتا ہوں گھبرایا ہوا کچھ نیا کرنے کا پھروں زار ہی کیا جب تماشائی ہے اکتایا ہوا کم سے کم ا سے کا تو رکھتا حقیقت لحاظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں اک آواز پر آیا ہوا مجھ کو آسانی سے پا سکتا ہے کون ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تری در کا ٹھکرایا ہوا
Shariq Kaifi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







