kis harf pe tu ne gosha-e-lab ai jan-e-jahan ghhammaz kiya elan-e-junun dil valon ne ab ke ba-hazar-andaz kiya sau paikan the paivast-e-gulu jab chhedi shauq ki lai ham ne so tiir tarazu the dil men jab ham ne raqs aghhaz kiya be-hirs-o-hava be-khauf-o-khatar is haath pe sar is kaf pe jigar yuun ku-e-sanam men vaqt-e-safar nazzara-e-bam-e-naz kiya jis khaak men mil kar khaak hue vo surma-e-chashm-e-khalq bani jis khaar pe ham ne khuun chhidka ham-rang-e-gul-e-tannaz kiya lo vasl ki saaat aa pahunchi phir hukm-e-huzuri par ham ne ankhon ke dariche band kiye aur siine ka dar baaz kiya kis harf pe tu ne gosha-e-lab ai jaan-e-jahan ghammaz kiya elan-e-junun dil walon ne ab ke ba-hazar-andaz kiya sau paikan the paiwast-e-gulu jab chhedi shauq ki lai hum ne so tir taraazu the dil mein jab hum ne raqs aaghaz kiya be-hirs-o-hawa be-khauf-o-khatar is hath pe sar is kaf pe jigar yun ku-e-sanam mein waqt-e-safar nazzara-e-baam-e-naz kiya jis khak mein mil kar khak hue wo surma-e-chashm-e-khalq bani jis khar pe hum ne khun chhidka ham-rang-e-gul-e-tannaz kiya lo wasl ki saat aa pahunchi phir hukm-e-huzuri par hum ne aankhon ke dariche band kiye aur sine ka dar baz kiya
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو گھر کے اندر تو جھوٹوں کی ایک جوان فصلیں ہے دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے ناو ہے وہ ہے وہ ک سے نے چھید کیا ہے سچ بولو
Rahat Indori
71 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
رہ خزاں ہے وہ ہے وہ تلاش بہار کرتے رہے شب سیاہ سے طلب حسن یار کرتے رہے خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایت ہجران کہ ا سے وسیلے سے ہم ان سے رشتہ دل چارہ ساز کرتے رہے حقیقت دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار لگ تھی ہم ان ہے وہ ہے وہ تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار لگ تھے ہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے ضیا بزم ج ہاں بار بار ماند ہوئی حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
یوں سجا چاند کہ جھلکا تری انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مری ہمراز کا رنگ سایہ چشم ہے وہ ہے وہ حیران رکھ روشن کا جمال سرخی لب ہے وہ ہے وہ پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ ا گر لطف کروں آخر شب شیشہ مے ہے وہ ہے وہ ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے جستجو دل شکستہ تو شاہد و ساقی ہوا ہر ساز کا رنگ اک سخن اور کہ پھروں رنگ تکلم تیرا حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملا تی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھروں صبا سایہ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو لگ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر ایک امید سے دل بہلتا رہا اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
Faiz Ahmad Faiz
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







