کسی کی مرضی کو اپنی قسمت بنا چکے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کی سب لکیرے مٹا چکے ہیں چلو سمندر کی وسعتوں ہے وہ ہے وہ سکون ڈھونڈے کہ ساحلوں پر بے حد گھروندے بنا چکے ہیں انہی چھتوں سے ہمارے آنگن ہے وہ ہے وہ موت برسی وہی چھتیں جن سے ہم پتنگیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چکے ہیں
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Meraj Faizabadi
تری بارے ہے وہ ہے وہ جب سوچا نہیں تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا تھا م گر اتنا نہیں تھا تیری تصویر سے کرتا تھا باتیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ آئی لگ نہیں تھا سمندر نے مجھے پیاسا ہی رکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب صحرا ہے وہ ہے وہ تھا پیاسا نہیں تھا منانے روٹھنے کے کھیل ہے وہ ہے وہ ہم بچھڑ جائیں گے یہ سوچا نہیں تھا سنا ہے بند کر لیں ا سے نے آنکھیں کئی راتوں سے حقیقت سویا نہیں تھا
Meraj Faizabadi
2 likes
زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں تلاشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ ہے وہ ہے وہ گونگا تھا اب ہے وہ ہے وہ بولوںگا تو باتوں ہے وہ ہے وہ اثر بھی دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے خا لگ بدوشی ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں لیکن اگلی نسلیں تو لگ بھٹکیں ا نہیں گھر بھی دینا ظلم اور دل پامال کا یہ کھیل مکمل ہوں جائے ا سے کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا
Meraj Faizabadi
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meraj Faizabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Meraj Faizabadi's ghazal.







