ghazalKuch Alfaaz

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں تلاشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ ہے وہ ہے وہ گونگا تھا اب ہے وہ ہے وہ بولوںگا تو باتوں ہے وہ ہے وہ اثر بھی دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے خا لگ بدوشی ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں لیکن اگلی نسلیں تو لگ بھٹکیں ا نہیں گھر بھی دینا ظلم اور دل پامال کا یہ کھیل مکمل ہوں جائے ا سے کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

Related Ghazal

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

اک ہنر ہے جو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے دل سے اتر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سن رہا ہوں کہ گھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ہے ب سے اپنا سامنا در سانحے ہر کسی سے گزر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ناز و ادا وہی غمزے سر بسر آپ پر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب الزام ہوں زمانے کا کہ ی ہاں سب کے سر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا جب کہ واں عمر بھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے جاناں ملا ہوں ج سے دن سے بے طرح خود سے ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئے جاناں ہے وہ ہے وہ سوگ برپا ہے کہ اچانک سدھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

51 likes

ویسے تو مری مکان تک تو چلا آتا ہے پھروں اچانک سے تری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا آتا ہے آہیں بھرتا ہوں کہ پوچھے کوئی آ ہوں کا سبب پھروں ترا ذکر نکلتا ہے مزہ آتا ہے تری خط آج لطیفوں کی طرح لگتے ہیں خوب ہنستا ہوں ج ہاں لفظ وفا آتا ہے جاتے جاتے یہ کہا ا سے نے چلو آتا ہوں اب یہی دیکھنا ہے جاتا ہے یا آتا ہے تجھ کو ویسے تو زمانے کے ہنر آتے ہیں پیار آتا ہے کبھی تجھ کو بتا آتا ہے

Zubair Ali Tabish

23 likes

تمہارا کیا ہے تمہیں صرف گیان دینا ہے ہماری سوچو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ امتحاں دینا ہے گلاب بھی ہیں گلابوں ہے وہ ہے وہ بچھاؤ بھی ہیں بتا نشانی دینی ہے یا پھروں نشان دینا ہے تیرا سوال مری جان کا سوال ہے اور جواب دینے سے آسان جان دینا ہے ان ہوں نے اپنے مطابق سزا غزل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا کے مطابق نقص دینا ہے یہ بے زبانوں کی محفل ہے دوست یاد رہے ی ہاں خموشی کا زار زبان دینا ہے

Charagh Sharma

39 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meraj Faizabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meraj Faizabadi's ghazal.