ghazalKuch Alfaaz

ویسے تو مری مکان تک تو چلا آتا ہے پھروں اچانک سے تری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا آتا ہے آہیں بھرتا ہوں کہ پوچھے کوئی آ ہوں کا سبب پھروں ترا ذکر نکلتا ہے مزہ آتا ہے تری خط آج لطیفوں کی طرح لگتے ہیں خوب ہنستا ہوں ج ہاں لفظ وفا آتا ہے جاتے جاتے یہ کہا ا سے نے چلو آتا ہوں اب یہی دیکھنا ہے جاتا ہے یا آتا ہے تجھ کو ویسے تو زمانے کے ہنر آتے ہیں پیار آتا ہے کبھی تجھ کو بتا آتا ہے

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Zubair Ali Tabish

چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا

Zubair Ali Tabish

31 likes

ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ

Zubair Ali Tabish

47 likes

پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی

Zubair Ali Tabish

30 likes

چل خواہش کی بات کریںگے خالی ڈش کی بات کریںگے پہلے پیاسے تو بن جاؤ پھروں بارش کی بات کریںگے آنا ٹوٹا رشتہ لے کر گنجائش کی بات کریںگے بندے اک دو سجدے کر کے فرمائش کی بات کریںگے جاناں اوروں کے شعر سناؤ ہم تابش کی بات کریںگے

Zubair Ali Tabish

37 likes

ایک پہنچا ہوا مسافر ہے دل بھٹکنے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ماہر ہے کون لایا ہے عشق پر ایمان ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کافر ہوں تو بھی کافر ہے درد کا حقیقت جو حرف اول تھا درد کا حقیقت ہی حرف آخر ہے کام ادھورا پڑا ہے خوابوں کا آج پھروں نیند غیر حاضر ہے لاج رکھ لی تری سماعت نے ور لگ تابش بھی کوئی شاعر ہے

Zubair Ali Tabish

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.