ghazalKuch Alfaaz

kisi ko ghar mila hisse men ya koi dukan aai main ghar men sab se chhota tha mire hisse men maan aai yahan se jaane vaala laut kar koi nahin aaya main rota rah gaya lekin na vapas ja ke maan aai adhure raste se lautna achchha nahin hota bulane ke liye duniya bhi aai to kahan aai kisi ko gaanv se pardes le jaegi phir shayad udati rail-gadi dher saara phir dhuan aai mire bachchon men saari adaten maujud hain meri to phir in bad-nasibon ko na kyuun urdu zaban aai qafas men mausamon ka koi andaza nahin hota khuda jaane bahar aai chaman men ya khizan aai gharaunde to gharaunde hain chatanen tuut jaati hain udane ke liye andhi agar nam-o-nishan aai kabhi ai khush-nasibi mere ghar ka rukh bhi kar leti idhar pahunchi udhar pahunchi yahan aai vahan aai kisi ko ghar mila hisse mein ya koi dukan aai main ghar mein sab se chhota tha mere hisse mein man aai yahan se jaane wala laut kar koi nahin aaya main rota rah gaya lekin na wapas ja ke man aai adhure raste se lautna achchha nahin hota bulane ke liye duniya bhi aai to kahan aai kisi ko ganw se pardes le jaegi phir shayad udati rail-gadi dher sara phir dhuan aai mere bachchon mein sari aadaten maujud hain meri to phir in bad-nasibon ko na kyun urdu zaban aai qafas mein mausamon ka koi andaza nahin hota khuda jaane bahaar aai chaman mein ya khizan aai gharaunde to gharaunde hain chatanen tut jati hain udane ke liye aandhi agar nam-o-nishan aai kabhi ai khush-nasibi mere ghar ka rukh bhi kar leti idhar pahunchi udhar pahunchi yahan aai wahan aai

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Munawwar Rana

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

ساری دولت تری قدموں ہے وہ ہے وہ پڑی لگتی ہے تو ج ہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے حقیقت بے وجہ کبھی چنو ساون کے مہینے ہے وہ ہے وہ جھڑی لگتی ہے ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیںگے رفتہ رفتہ ابھی دنیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنت سے بڑی لگتی ہے خوشنما لگتے ہیں دل پر تری زخموں کے نشان بیچ دیوار ہے وہ ہے وہ ج سے طرح گھڑی لگتی ہے تو مری ساتھ ا گر ہے تو اندھیرا کیسا رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ر ہوں یا لگ ر ہوں نام رہے گا میرا زندگی عمر ہے وہ ہے وہ کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

بھلا پانا بے حد مشکل ہے سب کچھ یاد رہتا ہے محبت کرنے والا ا سے لیے برباد رہتا ہے ا گر سونے کے پنجرے ہے وہ ہے وہ بھی رہتا ہے تو قی گرا ہے پرندہ تو وہی ہوتا ہے جو آزاد رہتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ گھومنے پھرنے کے کچھ صاحب کردار ہوتے ہیں ادھر ہرگز نہیں جانا ادھر صیاد رہتا ہے لپٹ جاتی ہے سارے راستوں کی یاد بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جدھر سے بھی گزرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستہ یاد رہتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنے اچھے دن ابھی تک یاد ہیں را لگ ہر اک انسان کو اپنا زما لگ یاد رہتا ہے

Munawwar Rana

4 likes

حقیقت بچھڑ کر بھی ک ہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے ریت پر او سے سے اک نام لکھا ہوتا ہے خاک آنکھوں سے لگائی تو یہ احسا سے ہوا اپنی مٹی سے ہر اک بے وجہ جڑا ہوتا ہے ساری دنیا کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ کر ڈالا ہے کوئی منظر ہوں میرا دیکھا ہوا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلانا بھی نہیں چاہتا ا سے کو لیکن مستقل زخم کا رہنا بھی برا ہوتا ہے خوف ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہوئے شہر کی قسمت ہے یہی منتظر رہتا ہے ہر بے وجہ کہ کیا ہوتا ہے

Munawwar Rana

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.