ghazalKuch Alfaaz

حقیقت بچھڑ کر بھی ک ہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے ریت پر او سے سے اک نام لکھا ہوتا ہے خاک آنکھوں سے لگائی تو یہ احسا سے ہوا اپنی مٹی سے ہر اک بے وجہ جڑا ہوتا ہے ساری دنیا کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ کر ڈالا ہے کوئی منظر ہوں میرا دیکھا ہوا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھلانا بھی نہیں چاہتا ا سے کو لیکن مستقل زخم کا رہنا بھی برا ہوتا ہے خوف ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہوئے شہر کی قسمت ہے یہی منتظر رہتا ہے ہر بے وجہ کہ کیا ہوتا ہے

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Munawwar Rana

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لے اک ذرا دیر کو کمرے ہے وہ ہے وہ اندھیرا کر لے اب مجھے پار اتر جانے دے ایسا کر لے ور لگ جو آئی سمجھ ہے وہ ہے وہ تری دریا کر لے خود ب خود راستہ دے دےگا یہ طوفان مجھے تجھ کو پانے کا ا گر دل یہ ارادہ کر لے آج کا کام تجھے آج ہی کرنا ہوگا کل جو کرنا ہے تو پھروں آج تقاضا کر لے اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید لگ کر کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے گر کبھی رونا ہی پڑ جائے تو اتنا رونا آ کے برسات تری سامنے توبہ کر لے مدتوں بعد حقیقت آئےگا ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں سے اے دل کسی امید کو زندہ کر لے ہم سفر لیلیٰ بھی ہوں گی ہے وہ ہے وہ تبھی جاؤں گا مجھ پہ جتنے بھی ستم کرنے ہوں صحرا کر لے

Munawwar Rana

4 likes

چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

بڑھوا ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی موت کا آنا تو طے ہے موت آوےگی عشق دل م گر آپ کے آنے سے تھوڑی زندگی بڑھ جائے گی اتنی چاہت سے لگ دیکھا کیجیے محفل ہے وہ ہے وہ آپ شہر والوں سے ہماری دشمنی بڑھ جائے گی آپ کے ہنسنے سے خطرہ اور بھی بڑھ جائےگا ا سے طرح تو اور آنکھوں کی نمی بڑھ جائے گی بے وفائی کھیل کا حصہ ہے جانے دے اسے تذکرہ ا سے سے لگ کر شرمندگی بڑھ جائے گی

Munawwar Rana

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.