کتنی شرمیلی لجیلی ہے ہوا برسات کی ملتی ہے ان کی ادا سے ہر ادا برسات کی جانے ک سے مہیوال سے آتی ہے ملنے کے لیے سوہنی گاتی ہوئی سوندھی ہوا برسات کی ا سے کے گھر بھی تجھ کو آنا چاہیے تھا اے بہار ج سے نے سب کے واسطے مانگی دعا برسات کی اب کی بارش ہے وہ ہے وہ لگ رہ جائے کسی کے دل ہے وہ ہے وہ میل سب کی گگری دھو کے بھر دے اے گھٹا برسات کی دیکھیے کچھ ایسے بھی بیمار ہیں برسات کے بوتلوں ہے وہ ہے وہ لے کے نکلے ہیں دوا برسات کی جیب اپنی دیکھ کر موسم سے یاری کیجیے اب کی مہنگی ہے بے حد آب و ہوا برسات کی بادلوں کی گھن گرج کو سن کے بچے کی طرح چونک چونک اٹھتی ہے رہ رہ کر فضا برسات کی راستے ہے وہ ہے وہ جاناں ا گر بھیگے تو خفگی مجھ پہ کیوں مری منصف پہ غلطیاں مری ہے یا برسات کی ہم تو بارش ہے وہ ہے وہ کھلی چھت پر لگ سوئیں گے نذیر آپ تنہا اپنے سر لیجے بلا برسات کی دیکھیے کچھ ایسے بھی بیمار ہیں برسات کے بوتلوں ہے وہ ہے وہ لے کے نکلے ہیں دوا برسات کی جیب اپنی دیکھ کر موسم سے یاری کیجیے اب کی مہنگی ہے بے حد آب
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا
Bashir Badr
43 likes
جاناں ثروت کو پڑھتی ہوں کتنی اچھی لڑکی ہوں بات نہیں سنتی ہوں کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہوں کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہوں لوگ نہیں ڈرتے رب سے جاناں لوگوں سے ڈرتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جیتا ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کیوں مجھ پہ مرتی ہوں آدم اور سدھر جائے جاناں بھی حد ہی کرتی ہوں ک سے نے جینز کری ممنوع پہنو اچھی لگتی ہوں
Ali Zaryoun
48 likes
کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہوں سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہوں سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی بے وجہ کے ہوں کر رہ جائیں حقیقت بھی صرف ہمارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے ہوں سکتا ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے وہ چا ہوں بول نا مری یارا کیسے ہوں سکتا ہے
Jawwad Sheikh
39 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nazeer Banarasi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nazeer Banarasi's ghazal.







