ghazalKuch Alfaaz

koi hindu koi muslim koi isai hai sab ne insan na banne ki qasam khaai hai itni khun-khar na thiin pahle ibadat-gahen ye aqide hain ki insan ki tanhai hai tiin chauthai se zaaid hain jo abadi men un ke hi vaste har bhuuk hai mahngai hai dekhe kab talak baaqi rahe saj-dhaj us ki aaj jis chehra se tasvir utarvai hai ab nazar aata nahin kuchh bhi dukanon ke siva ab na badal hain na chidiyan hain na purvai hai koi hindu koi muslim koi isai hai sab ne insan na banne ki qasam khai hai itni khun-khar na thin pahle ibaadat-gahen ye aqide hain ki insan ki tanhai hai tin chauthai se zaid hain jo aabaadi mein un ke hi waste har bhuk hai mahngai hai dekhe kab talak baqi rahe saj-dhaj us ki aaj jis chehra se taswir utarwai hai ab nazar aata nahin kuchh bhi dukanon ke siwa ab na baadal hain na chidiyan hain na purwai hai

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Nida Fazli

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں

Nida Fazli

0 likes

راکش سے تھا لگ خدا تھا پہلے آدمی کتنا بڑا تھا پہلے آ سماں کھیت سمندر سب یشودا خون کاغذ پہ اگا تھا پہلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مقتول جو قاتل لگ بنا ہاتھ میرا بھی اٹھا تھا پہلے اب کسی سے بھی شکایت لگ رہی جانے ک سے ک سے سے گلہ تھا پہلے شہر تو بعد ہے وہ ہے وہ ویران ہوا میرا گھر خاک ہوا تھا پہلے

Nida Fazli

2 likes

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی

Nida Fazli

0 likes

کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف ک ہاں ہے شہر ہے وہ ہے وہ اب کوئی زندگی کی طرف سبھی کی دی ہے وہ ہے وہ غائب تھا جو حقیقت حاضر تھا کسی نے رک کے نہیں دیکھا آدمی کی طرف تمام شہر کی شمعیں اسی سے روشن تھیں کبھی اجالا بے حد تھا کسی گلی کی طرف کہی کی بھوک ہوں ہر کھیت ا سے کا اپنا ہے کہی کی پیا سے ہوں جائے گی حقیقت ن گرا کی طرف لگ نکلے خیر سے علامہ قول سے باہر یکتا ٹوٹ گئے جب چلے خو گرا کی طرف

Nida Fazli

0 likes

گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو

Nida Fazli

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.