koyal niin aa ke kuuk sunai basant rut baurae khas-o-am ki aai basant rut vo zard-posh jis kuun bhar aghhosh men liya goya ki tab gale siin lagai basant rut vo zard-posh jis ka ki gun gavte hain ham shokhi niin us ki naach nachai basant rut ghhunche niin is bahar men kadvaya apna dil bulbul chaman men phuul ke gaai basant rut tesu ke phuul dashna-e-khuni hue use birhan ke ji kuun hai ye kasai basant rut gaae hindol aaj kalavant khulas khulas har taan biich kya ke phulai basant rut bulbul hua hai dekh sada rang ki bahar is saal 'abru' kuun ban aai basant rut koyal nin aa ke kuk sunai basant rut baurae khas-o-am ki aai basant rut wo zard-posh jis kun bhar aaghosh mein liya goya ki tab gale sin lagai basant rut wo zard-posh jis ka ki gun gawte hain hum shokhi nin us ki nach nachai basant rut ghunche nin is bahaar mein kadwaya apna dil bulbul chaman mein phul ke gai basant rut tesu ke phul dashna-e-khuni hue use birhan ke ji kun hai ye kasai basant rut gae hindol aaj kalawant khulas khulas har tan bich kya ke phulai basant rut bulbul hua hai dekh sada rang ki bahaar is sal 'abru' kun ban aai basant rut
Related Ghazal
سارے منظر دلکش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی جیون کی ہر شام ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب ایک کہانی لگتی تھی ج سے کا چاند سا چہرہ تھا اور زلف سنہری بادل سی مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دیوانی لگتی تھی اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھروں ان کے آگے سب دنیا اور زمانے کی ہر بات پرانی لگتی تھی پیار کے موسم کی خوشبو سے غنچہ غنچہ مہکا تھا مہکی مہکی دنیا ساری رات کی رانی لگتی تھی لمحوں کے رنگین غبارے ہاتھ سے چھوٹے جاتے تھے موسم دکھ کا درد کی رت سب آنی جانی لگتی تھی قو سے قزح کی بارش ہے وہ ہے وہ یہ جذبوں کی منا زور ہوا موج اڑاتے بل کھاتے دریا کی روانی لگتی تھی اب دیکھیں تو دور کہی پر یادوں کی پھلواری ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگوں سے بھرپور فضا تھی جو لا فانی لگتی تھی
Farah Iqbal
7 likes
ہزار صحرا تھے رستے ہے وہ ہے وہ یار کیا کرتا جو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایا حقیقت دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا چلو یہ مانا کہ اظہار بھی ضروری ہے سو ایک بار کیا بار بار کیا کرتا اسی لیے تو در آئی لگ بھی وا لگ کیا جو سو رہے ہیں ا نہیں ہوشیار کیا کرتا حقیقت اپنے خواب کی تفسیر خود لگ کر پایا جہان بھر پہ اسے آشکار کیا کرتا ا گر حقیقت کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا یہ سوچ مت کہ اکیلا جاں گسل کیا کرتا سوائے یہ کہ حقیقت اپنے بھی زخم تازہ کرے مری غموں پہ میرا غم گسار کیا کرتا ب سے ایک پھول کی خاطر بہار مانگی تھی رتوں سے ور لگ ہے وہ ہے وہ قول و قرار کیا کرتا میرا لہو ہی کہانی کا رنگ تھا جواد کہانی کار اسے رنگ دار کیا کرتا
Jawwad Sheikh
10 likes
سر ہی اب پھوڑئیے ندامت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند آنے لگی ہے فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں دلیلیں تری خلاف م گر سوچتا ہوں تری حمایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی ناتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو درمیان لگ لاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چیختا ہوں بدن کی عسرت ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی ک سے طرح بسر ہوں گی دل نہیں لگ رہا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حاصل کن ہے یہ جہان خراب یہی ممکن تھا اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنایا خدا نے آدم کو اپنی صورت پہ ایسی صورت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں آدمی نے غور کیا چھپکلی کی لطیف صنعت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے خدا جو کہی نہیں موجود کیا لکھا ہے ہماری قسمت ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
32 likes
ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
Kaif Bhopali
2 likes
تن تنہا مقابل ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے ا نہیں ہے وہ ہے وہ چھین کر لایا ہوں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے غاروں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسو سے حقیقت یوں قتل کرتے ہیں نگا ہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے لگ آئی پر لگ آئی حقیقت ا نہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے حقیقت دن بھی ہاں یہ کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دسہرے سے دیوالی سے بسنوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے
Kaif Bhopali
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abroo Shah Mubarak.
Similar Moods
More moods that pair well with Abroo Shah Mubarak's ghazal.







