ghazalKuch Alfaaz

kuchh kahne ka vaqt nahin ye kuchh na kaho khamosh raho ai logo khamosh raho haan ai logo khamosh raho sach achchha par us ke jilau men zahr ka hai ik pyala bhi pagal ho kyuun nahaq ko suqrat bano khamosh raho un ka ye kahna suraj hi dharti ke phere karta hai sar-ankhon par suraj hi ko ghumne do khamosh raho mahbas men kuchh habs hai aur zanjir ka aahan chubhta hai phir socho haan phir socho haan phir socho khamosh raho garm aansu aur thandi aahen man men kya kya mausam hain is bagiya ke bhed na kholo sair karo khamosh raho ankhen muund kinare baitho man ke rakkho band kivad 'insha'-ji lo dhaga lo aur lab si lo khamosh raho kuchh kahne ka waqt nahin ye kuchh na kaho khamosh raho ai logo khamosh raho han ai logo khamosh raho sach achchha par us ke jilau mein zahr ka hai ek pyala bhi pagal ho kyun nahaq ko suqraat bano khamosh raho un ka ye kahna suraj hi dharti ke phere karta hai sar-ankhon par suraj hi ko ghumne do khamosh raho mahbas mein kuchh habs hai aur zanjir ka aahan chubhta hai phir socho han phir socho han phir socho khamosh raho garm aansu aur thandi aahen man mein kya kya mausam hain is bagiya ke bhed na kholo sair karo khamosh raho aankhen mund kinare baitho man ke rakkho band kiwad 'insha'-ji lo dhaga lo aur lab si lo khamosh raho

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Ibn۔e۔Insha

और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का

Ibn E Insha

0 likes

رات کے خواب سنائیں ک سے کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ض گرا وحشی الھڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مسری آنکھوں ہے وہ ہے وہ افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان ہے وہ ہے وہ سے جو نار بنی سر و ساماں تو لوگ کہی گے انشا جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ان گلیوں ہے وہ ہے وہ روز ہی گھوما کرتی تھی ا سے سے ان کو ملنا تھا تو ا سے کے لاکھ بہانے تھے ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے

Ibn E Insha

2 likes

سنتے ہیں پھروں چھپ چھپ ان کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے ہوں انشا صاحب ناحق جی کو وحشت ہے وہ ہے وہ الجھاتے ہوں دل کی بات چھپانی مشکل لیکن خوب چھپاتے ہوں بن ہے وہ ہے وہ دا لگ شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہوں بیکل بیکل رہتے ہوں پر محفل کے صاحب کردار کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہوں پیت ہے وہ ہے وہ ایسے لاکھ جتن ہیں لیکن اک دن سب ناکام آپ ج ہاں ہے وہ ہے وہ رسوا ہوگے واز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرماتے ہوں ہم سے نام جنوں کا قائم ہم سے دشت کی آبا گرا ہم سے درد کا شکوہ کرتے ہم کو زخم دکھاتے ہوں

Ibn E Insha

0 likes

हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है

Ibn E Insha

0 likes

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہن سے دیے ہم چپ رہے جھمکے تھا پردہ ترا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر بے وجہ تیرا نام لے ہر بے وجہ دیوا لگ ترا کوچے کو تری چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں م گر جنگل تری پربت تری بستی تری صحرا ترا ہم اور رسم بندگی آشفتگی افتادگی احسان ہے کیا کیا ترا اے حسن بے پروا ترا دو خوشی جانے ک سے لیے پلکوں پہ آ کر ٹک گئے الطاف کی بارش تری اکرام کا دریا ترا اے بے دریغ و بے اماں ہم نے کبھی کی ہے فغاں ہم کو تری وحشت صحیح ہم کو صحیح سودا ترا ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہگزر رستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما ترا ہاں ہاں تری صورت حسین لیکن تو ایسا بھی نہیں اک بے وجہ کے اشعار سے اشہدو ان لا الہ ہوا کیا کیا ترا بے درد سننی ہوں تو چل کہتا ہے کیا اچھی غزل عاشق ترا رسوا ترا شاعر ترا انشا ترا

Ibn E Insha

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn۔e۔Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn۔e۔Insha's ghazal.