kunj kunj naghhma-zan basant aa gai ab sajegi anjuman basant aa gai ud rahe hain shahr men patang rang rang jagmaga utha gagan basant aa gai mohne lubhane vaale pyare pyare log dekhna chaman chaman basant aa gai sabz ketiyon pe phir nikhar aa gaya le ke zard pairahan basant aa gai pichhle saal ke malal dil se mit gae le ke phir nai chubhan basant aa gai kunj kunj naghma-zan basant aa gai ab sajegi anjuman basant aa gai ud rahe hain shahr mein patang rang rang jagmaga utha gagan basant aa gai mohne lubhane wale pyare pyare log dekhna chaman chaman basant aa gai sabz ketiyon pe phir nikhaar aa gaya le ke zard pairahan basant aa gai pichhle sal ke malal dil se mit gae le ke phir nai chubhan basant aa gai
Related Ghazal
برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں
Umair Najmi
59 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا
Kushal Dauneria
67 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Nasir Kazmi
دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے
Nasir Kazmi
11 likes
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے
Nasir Kazmi
2 likes
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا چھوؤں گا ہاتھ تھا میرے شانے پر ایک یہ وقت کہ ہے وہ ہے وہ تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے چیزیں کی حقیقت اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ایک نئی دنیا کی دھن ہے وہ ہے وہ اطراف پھرتا ہوں میری تجھ سے کیسے سنانی ایک ہیں تیرے فکر و عمل میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ ای سے کالی رات کو دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مری چلنا ہوں تو چل
Nasir Kazmi
4 likes
शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ
Nasir Kazmi
1 likes
دیار دل کی رات ہے وہ ہے وہ چراغ سا جلا گیا تو ملا نہیں تو کیا ہوا حقیقت شکل تو دکھا گیا تو حقیقت دوستی تو خیر اب نصیب دشمنان ہوئی حقیقت چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا تو جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی دل پامال آ گیا تو پکارتی ہیں فرصتیں ک ہاں گئیں حقیقت صحبتیں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نگل گئی ا نہیں کہ آسمان کھا گیا تو یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ک ہاں چلا گیا تو یہ ک سے خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی حقیقت لہر ک سے طرف گئی یہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں سما گیا تو گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا تو
Nasir Kazmi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.







