luta raha huun main laal-o-gohar andhere men talash karti hai kis ko nazar andhere men vo jis ki raah men main ne diye jalae the gaya vo shakhs mujhe chhod kar andhere men charaghh kaun utha le gaya mire ghar se sisak rahe hain mire bam-o-dar andhere men tha tirgi ke janaze pe ek hashr bapa jo us ke aane se phaili khabar andhere men koi hatheli pe phirta hai aftab liye bhatak raha hai koi dar-ba-dar andhere men men koh-e-nur huun nadan tujhe khabar bhi nahin mujhe chhupane ki koshish na kar andhere men musafiron ko vo rahen dikhaega 'afzal' charaghh rakh do sar-e-rahguzar andhere men luta raha hun main lal-o-gohar andhere mein talash karti hai kis ko nazar andhere mein wo jis ki rah mein main ne diye jalae the gaya wo shakhs mujhe chhod kar andhere mein charagh kaun utha le gaya mere ghar se sisak rahe hain mere baam-o-dar andhere mein tha tirgi ke janaze pe ek hashr bapa jo us ke aane se phaili khabar andhere mein koi hatheli pe phirta hai aaftab liye bhatak raha hai koi dar-ba-dar andhere mein mein koh-e-nur hun nadan tujhe khabar bhi nahin mujhe chhupane ki koshish na kar andhere mein musafiron ko wo rahen dikhaega 'afzal' charagh rakh do sar-e-rahguzar andhere mein
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Afzal Allahabadi
جو مری آرزو نہیں کرتا ا سے کی ہے وہ ہے وہ جستجو نہیں کرتا ہجر جاناں ہے وہ ہے وہ اپنے اشکوں سے کون ہے جو وضو نہیں کرتا حقیقت تو تیرا کلیم تھا ور لگ سب سے تو گفتگو نہیں کرتا سید الانبیاء تھے حقیقت ور لگ سب کو تو رو برو نہیں کرتا تیری نسبت ملی مجھے جب سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی آرزو نہیں کرتا ہر گھڑی ج سے کی بات کرتا ہوں مجھ سے حقیقت گفتگو نہیں کرتا در بدر یوں نہیں اطراف ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو فراموش تو نہیں کرتا ہوں نہیں پاتی شاعری افضل نذر جب تک لہو نہیں کرتا
Afzal Allahabadi
1 likes
غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے حقیقت نشہ ہے ج سے ہے وہ ہے وہ سخن کا وہی شراب ہے حقیقت اسے لگ دیکھ مہکتا ہوا گلاب ہے حقیقت لگ جانے کتنی نگا ہوں کا انتخاب ہے حقیقت مثال مل لگ سکی کائنات ہے وہ ہے وہ ا سے کی جواب ا سے کا نہیں کوئی لا جواب ہے حقیقت مری ان آنکھوں کو تعبیر مل نہیں پاتی جسے ہے وہ ہے وہ دیکھتا رہتا ہوں ایسا خواب ہے حقیقت لگ جانے کتنے حجابوں ہے وہ ہے وہ حقیقت چھپا ہے م گر نگاہ دل سے جو دیکھوں تو بے حجاب ہے حقیقت اجالے اپنے لٹا کر حقیقت ڈوب جائےگا حسین صبح کا رخشندہ آفتاب ہے حقیقت حقیقت مجھ سے پوچھنے آیا ہے میرا حال افضل جسے بتا لگ سکون دل ہے وہ ہے وہ اضطراب ہے حقیقت
Afzal Allahabadi
1 likes
اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے کیسے دشمن کے مقابل حقیقت ٹھہر پائے گا ج سے کو ٹوٹی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے حقیقت جو پازیب کی دکھےگی کا شیدائی ہوں ا سے کو تلوار کی دکھےگی سے ڈر لگتا ہے مجھ کو بالوں کی سفی گرا نے خبر دار کیا زندگی اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے کر دیں مسلوب ا نہیں لاکھ زمانے والے حق پرستوں کو ک ہاں دار سے ڈر لگتا ہے حقیقت کسی طرح بھی تیرک نہیں ہوں سکتا دور سے ہی جسے منجھدار سے ڈر لگتا ہے مری آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وحشت کا بسیرہ افضل مجھ کو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے
Afzal Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Allahabadi's ghazal.







