ma'rifat ke liye agahi ke liye nur-e-haq chahiye raushni ke liye ji rahe hain kisi ki khushi ke liye varna kya hai yahan zindagi ke liye aap apna ta'aruf sar-e-anjuman kitna mushkil hai ik ajnabi ke liye dasht-e-ghhurbat men kuchh aur mumkin nahin jugnuon ke siva raushni ke liye rakh diye absharon ne dil khol kar dasht men ek pyasi nadi ke liye vaqt ke aage us ne bhi rakh di sipar jo tha mashhur apni khudi ke liye 'rahbar' e'zaz 'ohda qayadat ana masala ban gae aadmi ke liye ma'rifat ke liye aagahi ke liye nur-e-haq chahiye raushni ke liye ji rahe hain kisi ki khushi ke liye warna kya hai yahan zindagi ke liye aap apna ta'aruf sar-e-anjuman kitna mushkil hai ek ajnabi ke liye dasht-e-ghurbat mein kuchh aur mumkin nahin jugnuon ke siwa raushni ke liye rakh diye aabshaaron ne dil khol kar dasht mein ek pyasi nadi ke liye waqt ke aage us ne bhi rakh di sipar jo tha mashhur apni khudi ke liye 'rahbar' e'zaz 'ohda qayaadat ana masala ban gae aadmi ke liye
Related Ghazal
ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو
Mehshar Afridi
53 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی
Jaun Elia
36 likes
آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
Jawwad Sheikh
50 likes
اسے ا سے سمے ا سے محفل ہے وہ ہے وہ ہونا چاہیے تھا خیر محبت ہے وہ ہے وہ انا کو دل سے کھونا چاہیے تھا خیر بچھڑتے سمے ا سے کی آنکھ ہے وہ ہے وہ کچھ بھی نہیں دیکھا اسے دو پل تو پلکوں کو بھیگو لگ چاہیے تھا خیر مجھے مصروف لمحوں نے کہی فرصت کی سچائی اسے ب سے ایک اچھا سا کھلونا چاہیے تھا خیر مری قصوں ہے وہ ہے وہ سن کر نام ا سے کا لوگ ہنستے تھے اسے ا سے بات پر تھوڑا تو رونا چاہیے تھا خیر مری دل کی تسلی کے لیے تصویر بھیجی ہے تمہیں ا سے سمے مری پا سے ہونا چاہیے تھا خیر
Sapna Moolchandani
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahbar Tabani Dariyabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahbar Tabani Dariyabadi's ghazal.







