ghazalKuch Alfaaz

mai-khana-e-hasti men aksar ham apna thikana bhuul gae ya hosh men jaana bhuul gae ya hosh men aana bhuul gae asbab to ban hi jaate hain taqdir ki zid ko kya kahiye ik jaam to pahuncha tha ham tak ham jaam uthana bhuul gae aae the bikhere zulfon ko ik roz hamare marqad par do ashk to tapke ankhon se do phuul chadhana bhuul gae chaha tha ki un ki ankhon se kuchh rang-e-baharan le liije taqrib to achchhi thi lekin do aankh milana bhuul gae maalum nahin aine men chupke se hansa tha kaun 'adam' ham jaam uthana bhuul gae vo saaz bajana bhuul gae mai-khana-e-hasti mein aksar hum apna thikana bhul gae ya hosh mein jaana bhul gae ya hosh mein aana bhul gae asbab to ban hi jate hain taqdir ki zid ko kya kahiye ek jam to pahuncha tha hum tak hum jam uthana bhul gae aae the bikhere zulfon ko ek roz hamare marqad par do ashk to tapke aankhon se do phul chadhana bhul gae chaha tha ki un ki aankhon se kuchh rang-e-bahaaran le lije taqrib to achchhi thi lekin do aankh milana bhul gae malum nahin aaine mein chupke se hansa tha kaun 'adam' hum jam uthana bhul gae wo saz bajaana bhul gae

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Abdul Hamid Adam

जब तिरे नैन मुस्कुराते हैं ज़ीस्त के रंज भूल जाते हैं क्यूँँ शिकन डालते हो माथे पर भूल कर आ गए हैं जाते हैं कश्तियाँ यूँँ भी डूब जाती हैं नाख़ुदा किस लिए डराते हैं इक हसीं आँख के इशारे पर क़ाफ़िले राह भूल जाते हैं

Abdul Hamid Adam

5 likes

ہن سے ہن سے کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا تو حقیقت خود پلا رہے تھے ہے وہ ہے وہ لہرا کے پی گیا تو توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا تو ساغر بدست بیٹھی رہی مری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا تو حقیقت دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا تو سدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخ دنیا جبر و دل پامال کو دھڑکا کے پی گیا تو سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دی سو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا تو پیتا ک ہاں تھا صبح ازل ہے وہ ہے وہ بھلا عدم ساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا تو

Abdul Hamid Adam

6 likes

ہن سے کے بولا کروں بلایا کروں آپ کا گھر ہے آیا جایا کروں مسکراہٹ ہے حسن کا زیور مسکرانا لگ بھول جایا کروں حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوں جھوٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضرور کھایا کروں تاکہ دنیا کی دلکشی لگ گھٹے نت نئے پیرہن ہے وہ ہے وہ آیا کروں کتنے سادہ مزاج ہوں جاناں عدم ا سے گلی ہے وہ ہے وہ بے حد لگ جایا کروں

Abdul Hamid Adam

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Abdul Hamid Adam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Abdul Hamid Adam's ghazal.