main faqat chalti rahi manzil ko sar us ne kiya saath mere raushni ban kar safar us ne kiya is tarah khinchi hai mere gird divar-e-khabar saare dushman rauzanon ko be-nazar us ne kiya mujh men baste saare sannaton ki lai us se bani pattharon ke darmiyan thi naghhma-gar us ne kiya be-sar-o-saman pe dildari ki chadar daal di be-dar-o-divar thi main mujh ko ghar us ne kiya paniyon men ye bhi paani ek din tahlil tha qatra-e-be-sarfa ko lekin guhar us ne kiya ek maamuli si achchhai tarashi hai bahut aur fikr-e-kham se sarf-e-nazar us ne kiya phir to imkanat phulon ki tarah khulte gae ek nanhe se shagufe ko shajar us ne kiya taaq men rakkhe diye ko pyaar se raushan kiya us diye ko phir charaghh-e-rahguzar us ne kiya main faqat chalti rahi manzil ko sar us ne kiya sath mere raushni ban kar safar us ne kiya is tarah khinchi hai mere gird diwar-e-khabar sare dushman rauzanon ko be-nazar us ne kiya mujh mein baste sare sannaton ki lai us se bani pattharon ke darmiyan thi naghma-gar us ne kiya be-sar-o-saman pe dildari ki chadar dal di be-dar-o-diwar thi main mujh ko ghar us ne kiya paniyon mein ye bhi pani ek din tahlil tha qatra-e-be-sarfa ko lekin guhar us ne kiya ek mamuli si achchhai tarashi hai bahut aur fikr-e-kham se sarf-e-nazar us ne kiya phir to imkanat phulon ki tarah khulte gae ek nanhe se shagufe ko shajar us ne kiya taq mein rakkhe diye ko pyar se raushan kiya us diye ko phir charagh-e-rahguzar us ne kiya
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
More from Parveen Shakir
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
7 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
4 likes
حقیقت تو خوشبو ہے ہواؤں ہے وہ ہے وہ بکھر جائےگا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائےگا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائےگا کیا خبر تھی کہ رگ جاں ہے وہ ہے وہ اتر جائےگا حقیقت ہواؤں کی طرح رفاقت پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئےگا گزر جائےگا حقیقت جب آئےگا تو پھروں اس کا کی رفاقت کے لیے تہذیب مری آنگن ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائےگا آخرش حقیقت بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوں گی تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائےگا مجھ کو برزخ کے وارث کا بنایا اجداد جرم یہ بھی مری ٹھیس کے سر جائےگا
Parveen Shakir
2 likes
اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب
Parveen Shakir
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







