ہے وہ ہے وہ پا سکا لگ کبھی ا سے خلش سے چھٹکارا حقیقت مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا بر سے کے کھل گئے آنسو نتر گئی ہے فضا چمک رہا ہے سر شام درد کا تارا کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا اک امانت ہے مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی کھلے تھے پر تو میرا آسمان تھا سارا حقیقت سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ ہے وہ ہے وہ بھی کہتا ہوں م گر لگ چھوڑیں گے لوگ ا سے کو گر لگ فنکارا
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Javed Akhtar
ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے
Javed Akhtar
3 likes
سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا فیکا چاند آنکھوں کے صحرا ہے وہ ہے وہ ایک نمی کا چاند ا سے ماتھے کو چومے کتنے دن بیتے ج سے ماتھے کی خاطر تھا اک بتاشا چاند پہلے تو لگتی تھی کتنی بیگا لگ کتنا مبہم ہوتا ہے پہلی کا چاند کم ہوں کیسے ان خوشیوں سے تیرا غم لہروں ہے وہ ہے وہ کب بہتا ہے ن گرا کا چاند آؤ اب ہم ا سے کے بھی ٹکڑے کر لے ڈھاکہ راولپنڈی اور دہلی کا چاند
Javed Akhtar
0 likes
جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر
Javed Akhtar
0 likes
کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
Javed Akhtar
2 likes
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







