میرا خاموش رہ کر بھی ا نہیں سب کچھ سنا دینا زبان سے کچھ لگ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا نشمن ہوں لگ ہوں یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا کہ دو تنکے ج ہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے کوئی پڑنا والا آ رہا ہے راستہ دینا اجازت ہوں تو کہ دوں قصہ الفت سر محفل مجھے کچھ تو فسا لگ یاد ہے کچھ جاناں سنا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجرم ہوں مجھے اقرار ہے جرم محبت کا م گر پہلے تو خط پر غور کر لو پھروں سزا دینا ہٹا کر رکھ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے م گر سرکار کے ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں تارے چھپا دینا یہ تہذیب چمن جستجو دل شکستہ ہے بیرونی ہواؤں نے گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا قمر حقیقت سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے ک ہوں ک سے سے کہ مری شمع تربت کو بجھا دینا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Qamar Jalalvi
کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل
Qamar Jalalvi
1 likes
کسی کا نام لو بے نام افسانے بے حد سے ہیں لگ جانے ک سے کو جاناں کہتے ہوں دیوانے بے حد سے ہیں جفاؤں کے گلے جاناں سے خدا جانے بے حد سے ہیں م گر محشر کا دن ہے اپنے بیگا لگ بے حد سے ہیں بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو تری محفل ہے وہ ہے وہ ور لگ جانے پہچانے بے حد سے ہیں دھری رہ جائے گی پابن گرا زنداں جو اب چھیڑا یہ دربانوں کو سمجھا دو کہ دیوانے بے حد سے ہیں ب سے اب سو جاؤ نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے کل پھروں سنائیں گے ذرا سی رہ گئی ہے رات افسانے بے حد سے ہیں تمہیں ک سے نے بلایا مے کشوں سے یہ لگ کہ ساقی طبیعت مل گئی ہے ور لگ مے خانے بے حد سے ہیں بڑی قربانیوں کے بعد رہنا باغ ہے وہ ہے وہ ہوگا ابھی تو آشیاں بجلی سے جلوانے بے حد سے ہیں لکھی ہے خاک اڑانی ہی ا گر اپنے مقدر ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری کوچے پہ کیا موقوف ویرانے بے حد سے ہیں لگ رو اے شمع موجودہ پتنگوں کی مصیبت پر ابھی محفل سے باہر تری پروانے بے حد سے ہیں مری کہنے سے ہوں گی ترک رسم و راہ غیروں سے بجا ہے آپ نے کہنے مری مانے بے حد سے ہیں قم
Qamar Jalalvi
0 likes
سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے
Qamar Jalalvi
0 likes
کسی صورت سحر نہیں ہوتی رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی خوف صیاد سے لگ برق کا ڈر بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی ایک حقیقت ہیں کہ روز آتے ہیں ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی اب ہے وہ ہے وہ سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم زندگی بڑھوا نہیں ہوتی کتنی پابند وضع ہے شب غم کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم حاجت راہبر نہیں ہوتی سن لیا ہوگا جاناں نے حال مریض اب دوا کار گر نہیں ہوتی عرش ملتا ہے مری آ ہوں سے لیکن ان کو خبر نہیں ہوتی
Qamar Jalalvi
0 likes
اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہوں گیا تو اے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہوں گیا تو اب تو چپ ہوں باغ ہے وہ ہے وہ نالوں سے محشر ہوں گیا تو یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہوں گیا تو التماس قتل پر کہتے ہوں فرصت ہی نہیں اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہوں گیا تو محفل دشمن ہے وہ ہے وہ جو گزری حقیقت میرے دل سے پوچھ ہر اشارہ جنبش ابرو کا خنجر ہوں گیا تو آشیانے کا بتائیں کیا پتا خانہ بدوش چار تنکے رکھ لیے جس شاخ پر گھر ہوں گیا تو حرص تو دیکھو فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ستم کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہوں گیا تو سوختہ دل ہے وہ ہے وہ نہ ملتا تیر کو خوں اے قمر یہ بھی کچھ مہمان کی قسمت سے میسر ہوں گیا تو
Qamar Jalalvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.







