ghazalKuch Alfaaz

munh faqiron se na phera chahiye ye to puchha chahiye kya chahiye chaah ka meyar uncha chahiye jo na chahen un ko chaha chahiye kaun chahe hai kisi ko be-ghharaz chahne valon se bhaga chahiye ham to kuchh chahe hain tum chaho ho kuchh vaqt kya chahe hai dekha chahiye chahte hain tere hi daman ki khair ham hain divane hamen kya chahiye be-rukhi bhi naaz bhi andaz bhi chahiye lekin na itna chahiye ham jo kahna chahte hain kya kahen aap kah liije jo kahna chahiye baat chahe be-saliqa ho 'kalim' baat kahne ka saliqa chahiye munh faqiron se na phera chahiye ye to puchha chahiye kya chahiye chah ka meyar uncha chahiye jo na chahen un ko chaha chahiye kaun chahe hai kisi ko be-gharaz chahne walon se bhaga chahiye hum to kuchh chahe hain tum chaho ho kuchh waqt kya chahe hai dekha chahiye chahte hain tere hi daman ki khair hum hain diwane hamein kya chahiye be-rukhi bhi naz bhi andaz bhi chahiye lekin na itna chahiye hum jo kahna chahte hain kya kahen aap kah lije jo kahna chahiye baat chahe be-saliqa ho 'kalim' baat kahne ka saliqa chahiye

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

More from Kaleem Aajiz

مری شاعری ہے وہ ہے وہ لگ رقص جام لگ مے کی رنگ فشانیوں وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی اندھیرا یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بےوفا کی نشانیاں یہی مری دن کے رفیق ہیں یہی مری رات کی رانیاں یہ مری زبان پہ غزل نہیں ہے وہ ہے وہ سنا رہا ہوں اندھیرا کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں کبھی آنسوؤں کو سوکھا گئیں مری سوز دل کی حرارتیں کبھی دل کی ناو ڈبو گئیں مری آنسوؤں کی روانیاں ابھی ا سے کو ا سے کی خبر ک ہاں کہ قدم ک ہاں ہے نظر ک ہاں ابھی مصلحت کا گزر ک ہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں یہ بیان حال یہ گفتگو ہے میرا نچوڑا ہوا لہو ابھی سن لو مجھ سے کہ پھروں کبھو لگ سنو گے ایسی اندھیرا

Kaleem Aajiz

0 likes

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

Kaleem Aajiz

0 likes

یہ دیوانے کبھی اسیریوں کا غم نہیں لیںگے گریباں چاک جب تک کر لگ لیںگے دم نہیں لیںگے لہو دیں گے تو لیںگے پیار اندھیرا ہم نہیں لیںگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھولوں کے بدلے پھول دو شبنم نہیں لیںگے یہ غم ک سے نے دیا ہے پوچھ مت اے ہم نشین ہم سے زما لگ لے رہا ہے نام ا سے کا ہم نہیں لیںگے محبت کرنے والے بھی غضب دودمان ہوتے ہیں ج گر پر زخم لیںگے زخم پر مرہم نہیں لیںگے غم دل ہی کے ماروں کو غم ایام بھی دے دو غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیںگے سنواردے جا رہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیں جاناں اپنے ذمہ لو اب یہ بکھڑا ہم نہیں لیںگے شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے م گر عاجز غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیںگے

Kaleem Aajiz

0 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

वो सितम न ढाए तो क्या करे उसे क्या ख़बर कि वफ़ा है क्या? तू उसी को प्यार करे है क्यूँँ ये 'कलीम' तुझ को हुआ है क्या? तुझे संग-दिल ये पता है क्या कि दुखे दिलों की सदा है क्या? कभी चोट तू ने भी खाई है कभी तेरा दिल भी दुखा है क्या? तू रईस-ए-शहर-ए-सितम-गराँ मैं गदा-ए-कूचा-ए-आशिक़ाँ तू अमीर है तो बता मुझे मैं ग़रीब हूँ तो बुरा है क्या? तू जफ़ा में मस्त है रोज़-ओ-शब मैं कफ़न-ब-दोश ओ ग़ज़ल-ब-लब तिरे रोब-ए-हुस्न से चुप हैं सब मैं भी चुप रहूँ तो मज़ा है क्या? ये कहाँ से आई है सुर्ख़-रू है हर एक झोंका लहू लहू कटी जिस में गर्दन-ए-आरज़ू ये उसी चमन की हवा है क्या? अभी तेरा दौर-ए-शबाब है अभी क्या हिसाब-ओ-किताब है अभी क्या न होगा जहान में अभी इस जहाँ में हुआ है क्या? यही हम-नवा यही हम-सुख़न यही हम-निशाँ यही हम-वतन मिरी शाइ'री ही बताएगी मिरा नाम क्या है पता है क्या?

Kaleem Aajiz

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.